اہم ترین

یو اے ای جانے والے پاکستانی ہوشیار! ایمبولینس کا راستہ روکنے پر ہوگا 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد جرمانہ

متحدہ عرب امارات میں سڑک پر ایمبولینس، فائر بریگیڈ، پولیس یا دیگر ہنگامی گاڑی کے سائرن اور وارننگ لائٹس نظر آئیں تو ڈرائیورز کے لیے فوری اور محفوظ انداز میں راستہ دینا ضروری ہے۔ ہنگامی گاڑی کو راستہ نہ دینے کی صورت میں 3 ہزار درہم جرمانہ ( تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار پاکستانی روپے )، ڈرائیونگ لائسنس پر 6 بلیک پوائنٹس اور گاڑی 30 دن کے لیے ضبط کی جاسکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وفاقی ٹریفک قانون، وفاقی حکم نامہ نمبر 14 برائے 2024 کے آرٹیکل 6 میں سڑک پر ترجیح کے حوالے سے واضح قواعد موجود ہیں۔ پاکستانی ڈرائیورز کے لیے، خصوصاً دبئی، ابوظہبی اور دیگر امارات میں گاڑی چلانے والوں کے لیے ان قوانین کو سمجھنا اہم ہے کیونکہ ہنگامی گاڑی کو غلط طریقے سے راستہ دینا نہ صرف جرمانے بلکہ حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

کس گاڑی کو راستے میں ترجیح حاصل ہے؟

قانون کے مطابق سڑک پر ترجیح کی ترتیب میں سرکاری جلوس، ڈیوٹی پر موجود سول ڈیفنس کی گاڑیاں، مریضوں اور زخمیوں کو منتقل کرنے والی گاڑیاں، فوجی قافلے، وارننگ لائٹس اور سائرن استعمال کرنے والی پولیس گاڑیاں اور بعض ضروری خدمات انجام دینے والی مخصوص گاڑیاں شامل ہیں۔

ہائی وے پر ایمبولینس آئے تو کیا کریں؟

اگر ہنگامی گاڑی مین روڈ پر بائیں لین سے آ رہی ہو تو ڈرائیور کو اسے راستہ دینے کے لیے محفوظ طریقے سے دائیں لین میں منتقل ہونا چاہیے۔

تاہم ہنگامی گاڑی کے لیے راستہ بنانے کے چکر میں ہارڈ شولڈر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حصہ عموماً پیلی لائن سے نمایاں ہوتا ہے اور ہنگامی گاڑیوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

اندرونی سڑکوں پر کیا کرنا ہوگا؟

ایسی سڑکوں پر جہاں ہارڈ شولڈر موجود نہ ہو، ڈرائیورز کو صورتحال کے مطابق اپنی گاڑی دائیں یا بائیں جانب منتقل کرکے ہنگامی گاڑی کے لیے گزرنے کی جگہ بنانی چاہیے۔

اصل اصول یہ ہے کہ راستہ فوری لیکن محفوظ انداز میں دیا جائے، اچانک بریک لگا کر یا خطرناک طریقے سے لین تبدیل کرکے نہیں۔

ٹریفک سگنل پر ایمبولینس آجائے

اگر چوراہے پر آپ کے لیے سگنل سبز بھی ہو اور پیچھے یا قریب سے ایمبولینس، پولیس یا فائر بریگیڈ وارننگ لائٹس اور سائرن کے ساتھ آ رہی ہو تو اسے راستہ دینا ضروری ہے۔

ایسی صورت میں گاڑی روک کر ہنگامی گاڑی کو گزرنے دینا چاہیے۔ ہنگامی گاڑی کو ضرورت کے مطابق سرخ سگنل عبور کرنے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم وہ عموماً رک کر احتیاط سے آگے بڑھتی ہے۔

راؤنڈ اباؤٹ پر خاص احتیاط

راؤنڈ اباؤٹ کے قریب ہنگامی گاڑی نظر آئے تو نئی گاڑی کو راؤنڈ اباؤٹ میں داخل نہیں ہونا چاہیے اور پہلے ہنگامی گاڑی کو گزرنے دینا چاہیے۔

اگر آپ پہلے ہی راؤنڈ اباؤٹ کے اندر موجود ہیں تو اپنی سمت میں آگے بڑھتے ہوئے جلد از جلد دائیں جانب جگہ بنائیں تاکہ ایمبولینس یا دیگر ہنگامی گاڑی گزر سکے۔

دو طرفہ سنگل لین سڑک پر کیا کریں؟

ایسی سڑک جہاں ہر سمت کے لیے صرف ایک لین ہو، ہنگامی گاڑی اکثر دونوں سمتوں کی گاڑیوں کے درمیان سے گزرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس صورت میں آگے جانے والی گاڑیوں کو سڑک کے انتہائی دائیں جانب ہوجانا چاہیے، لیکن ہارڈ شولڈر پر نہیں جانا چاہیے۔ مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کو بھی اپنی دائیں جانب ہوجا کر درمیان میں ہنگامی گاڑی کے لیے راستہ بنانا چاہیے۔

قانون توڑنے پر 3 ہزار درہم جرمانہ

متحدہ عرب امارات میں ہنگامی اور سرکاری گاڑیوں کو راستہ نہ دینے پر جرمانہ 3 ہزار درہم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور کے لائسنس پر 6 بلیک پوائنٹس بھی عائد ہوسکتے ہیں جبکہ گاڑی کو 30 دن کے لیے ضبط کیا جاسکتا ہے۔

حکام سڑکوں پر کیمروں، اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹمز اور گشتی گاڑیوں کے ذریعے ایسی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری روزگار، کاروبار اور دیگر مقاصد کے لیے مقیم ہیں، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ ایمبولینس یا کسی بھی ہنگامی گاڑی کے سائرن سنتے ہی گھبراہٹ میں غلط لین لینے کے بجائے پرسکون انداز میں محفوظ راستہ دیں۔ چند سیکنڈ کی احتیاط نہ صرف بھاری جرمانے سے بچا سکتی ہے بلکہ کسی مریض یا حادثے کے شکار شخص تک امداد پہنچنے میں قیمتی وقت بھی بچا سکتی ہے۔

پاکستان