اہم ترین

جنوبی افریقا کے ساحل پر ہزاروں مردہ سارڈینز، خطرناک وائرس کا خدشہ

جنوبی افریقا کے ساحل پر ہزاروں مردہ مچھلیوں نے مقامی آبادی، ماہرین ماحولیات اور سمندری سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ سمندر کی لہریں ہزاروں مردہ سارڈینز کو ساحل پر پھینکتی رہیں اور صبح ہوتے ہی گکیبرہا کے ساحل کا ایک بڑا حصہ چاندی جیسے نظر آنے والے مردہ مچھلیوں کے ڈھیروں سے ڈھک گیا۔

ااے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقا کی نیلسن منڈیلا یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات کی پروفیسر نادین اسٹرائیڈم کے مطابق ساحل پر نظر آنے والی مردہ مچھلیاں اس بڑے المیے کا صرف ایک حصہ ہوسکتی ہیں۔سمندر میں مرنے والی تمام مچھلیاں ساحل تک نہیں پہنچتیں، بہت سی ممکنہ طور پر سمندر کی تہہ میں موجود ہیں۔ یعنی اصل ہلاکتوں کی تعداد ساحل پر نظر آنے والی مچھلیوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

گکیبرہا کا یہ واقعہ اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ اس سے صرف چند ہفتے قبل مغربی کیپ کے ساحل پر بھی بڑے پیمانے پر سارڈینز کی ہلاکت اور ساحل پر آنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

اب دونوں واقعات کو آپس میں جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔

شک ایک خطرناک وائرس پر


سائنسدانوں کی نظریں ماضی میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سارڈینز کی آبادی کو شدید نقصان پنچناے والے پلچارڈ ہرپیز وائرس (پی ایچ وی) پر ہیں

جنوبی افریقا کے محکمہ جنگلات، ماہی گیری اور ماحولیات کے مطابق گکیبرہا اور مغربی کیپ میں ہونے والی مچھلیوں کی ہلاکتوں کے درمیان تعلق کا امکان موجود ہے، تاہم حتمی تصدیق کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

حکام کے مطابق فی الحال مغربی کیپ میں سارڈینز کی ہلاکت کی سب سے بڑی ممکنہ وجہ یہی وائرس سمجھا جارہا ہے، لیکن ماحولیاتی عوامل اور دیگر ممکنہ وجوہات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جارہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی افریقا میں اس وائرس کی موجودگی کی پہلی تصدیق اسی سال جولائی میں ہوئی، جب سالڈانہ بے، کیپ کینیون، ایلنڈز بے اور گانس بائی کے قریب سے حاصل کیے گئے سارڈین کے نمونوں میں وائرس پایا گیا۔

آسٹریلیا کی تباہی نے خوف بڑھادیا

یہ وائرس اس لیے بھی خوف کی علامت بن گیا ہے کہ 1990 کی دہائی میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس سے سارڈینز کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

جنوبی افریقا میں ملنے والے وائرس کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ آسٹریلیا میں پھیلنے والے وائرس کی قسم سے 99 فیصد سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی افریقا کی تاریخ میں اس وائرس کی موجودگی کی یہ پہلی تصدیق ہے۔

تاہم یہاں ایک اہم نکتہ موجود ہے: مچھلیوں میں وائرس مل جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ موت کی واحد وجہ بھی یہی وائرس ہے۔

سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا پی ایچ وی خود مچھلیوں کو ہلاک کررہا ہے یا پہلے سے ماحولیاتی دباؤ کا شکار کمزور مچھلیاں وائرس کا آسان شکار بن رہی ہیں۔

پہلے ہی کم ہیں سارڈینز

جنوبی افریقا میں سارڈینز کا ذخیرہ پہلے ہی کم ہوچکا ہے۔ سمندر میں آکسیجن کی کمی اور ماحول دشمن الجی کی افزائش جیسے ماحولیاتی عوامل مچھلیوں کو مزید کمزور کرسکتے ہیں۔

حکومتی تحقیقات میں خطرناک قسم کے شیل فش ٹاکسن کے شواہد نہیں ملے، جبکہ دیگر سمندری زہریلے مادوں کی مقدار بھی کم پائی گئی۔ اس لیے فی الحال الجی سے پیدا ہونے والی زہریلی کیفیت کو مچھلیوں کی ہلاکت کی بنیادی وجہ قرار دینا مشکل ہے۔

اب تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے کیونکہ نمیبیا کے ساحل پر بھی سارڈینز کے بڑی تعداد میں ساحل پر آنے کییہ بحران اگر پھیلتا ہے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

معاملہ صرف مچھلیوں تک محدود نہیں

یہ بحران اگر پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف ماہی گیری تک محدود نہیں رہیں گے۔

سارڈینز سمندری ماحولیاتی نظام کی ایک انتہائی اہم کڑی ہیں۔ ڈولفن، سیل، سمندری پرندے اور دیگر کئی جاندار انہی مچھلیوں کو خوراک بناتے ہیں۔

خاص طور پر افریقی پینگوئن کے لیے صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔

آلگوا بے دنیا کی اہم افریقی پینگوئن کالونیوں میں سے ایک کا مسکن ہے، اور یہ پینگوئن پہلے ہی خوراک کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ ماہرین تحفظِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر سارڈینز کی تعداد مزید کم ہوئی تو پینگوئنز کے لیے خوراک تلاش کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

یعنی ایک چھوٹی مچھلی کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا اثر سمندر کی پوری فوڈ چین تک پہنچ سکتا ہے۔

نیوکلیئر پاور پلانٹ بھی متاثر

اس بحران کا ایک غیر معمولی اثر کیپ ٹاؤن کے قریب کوئبرگ نیوکلیئر پاور اسٹیشن پر بھی پاور اسٹیشن کے کولنگ واٹر انٹیک بیسن کو اس قدر متاثر کیا کہ بجلی پیدا کرنے والے ادارے کو اپنے دو یونٹس میں سے ایک کی پیداوار نصف ہے کہ سمندری حیات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں صرف ماحولیات یا ماہی گیری کا مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ انفراسٹرکچر اور انسانی سرگرمیاں بھی ان سے متاثر ہوس جنوبی افریقا کے ماہر کریگ اسمتھ کے مطابق ادارہ حکومت اور ماہی گیری کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ مل کر صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام کررہا ہے، تاہم وہ موجودہ صورتحال پر ’’شدید تشویش‘‘ دیکھنے کو ملا۔

مردہ سارڈینز نے پاور اسٹیشن کے کولنگ واٹر انٹیک بیسن کو اس قدر متاثر کیا کہ بجلی پیدا کرنے والے ادارے کو اپنے دو یونٹس میں سے ایک کی پیداوار نصف کرنا پڑی۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سمندری حیات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں صرف ماحولیات یا ماہی گیری کا مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ انفراسٹرکچر اور انسانی سرگرمیاں بھی ان سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

ورلڈ وائلڈ فاؤنڈیشن جنوبی افریقا کے ماہر کریگ اسمتھ کے مطابق ادارہ حکومت اور ماہی گیری کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ مل کر صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام کررہا ہے، تاہم وہ موجودہ صورتحال پر ’’شدید تشویش‘‘ میں ہیں۔

ان کے مطابق آسٹریلیا میں اس وائرس نے سارڈینز کے تقریباً 70 فیصد ذخیرے کو ختم کردیا تھا اور خدشہ ہے کہ جنوبی افریقا میں جو کچھ اس وقت نظر آرہا ہے وہ صرف پہلی لہر ہو، جبکہ اس کے بعد اس سے بھی زیادہ خطرناک دوسری لہر آسکتی ہے۔

پاکستان