امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں ایک مرتبہ پھر براہِ راست حملوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ ایران نے امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی فوجی تنصیب کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے مطابق اردن میں کنگ حسین اور العزرق کے امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا ہدف بنے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں امریکی تنصیبات کو ’’بھاری نقصان‘‘ پہنچا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے جن میں سے 8 میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرکے تباہ کردیا گیا۔ اردنی فوج کے مطابق میزائلوں کو آبادی یا شہری املاک کے لیے خطرہ بننے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔
معاملہ کہاں سے شروع ہوا؟
تازہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایران کے لارک جزیرے پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ لانچرز ایسے راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے جن میں آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت موجود تھی۔ یہ کارروائی کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایران کی سرزمین پر امریکا کی پہلی بڑی فوجی کارروائی قرار دی جارہی ہے۔
ایران نے امریکی حملے کو اپنی خودمختاری اور فوجی تنصیبات پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے کا اعلان کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق لارک جزیرے پر امریکی کارروائی میں ایرانی فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد تہران نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کا مؤقف: جائز دفاع
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے ایران کے جائز دفاع کے حق کے تحت کیے گئے۔اردن میں موجود امریکی اڈے لارک جزیرے پر حملے کے لیے استعمال ہوئے تھے، اس لیے ان تنصیبات کو جواباً نشانہ بنانا ایران کے لیے دفاعی کارروائی تھی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنی کارروائی کو امریکی حملے کا جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردن میں امریکی اڈوں کے تکنیکی اور مرمتی ڈھانچے اور جنگی طیاروں سے متعلق تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
امارات میں بھی امریکی اڈہ نشانے پر
ایران کی جانب سے صرف اردن تک کارروائی محدود رکھنے کے بجائے متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق المنہاد ایئربیس پر موجود امریکی فوجیوں اور ہیلی کاپٹروں کو درجنوں ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس کارروائی کو بھی لارک جزیرے پر امریکی حملے کا جواب قرار دیا ہے۔ تاہم امارات میں ایرانی حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ امریکی فوج نے بھی ان ایرانی دعوؤں پر مکمل باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اردن پھر خطرے کی زد میں
ایرانی میزائل حملوں کے بعد اردن ایک مرتبہ پھر اس علاقائی جنگ کے اثرات کی زد میں آگیا ہے۔اردن پہلے بھی خطے میں ہونے والی لڑائی کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے راستے میں آچکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں عمان کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ایک طرف اس کی سرزمین پر امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں اور دوسری طرف ایران کی کارروائیوں میں اردن کی فضائی حدود متاثر ہوسکتی ہے۔
حالیہ واقعے میں اردنی فوج نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا، جس سے فوری طور پر شہری علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا۔
جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ
تازہ واقعات اس لیے بھی اہم ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ تیز ہوا ہے۔ امریکی حملے کے بعد ایران نے صرف بیان بازی تک محدود رہنے کے بجائے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو جواباً نشانہ بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
اس صورتحال میں اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت وہ ممالک بھی دباؤ میں آسکتے ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایک جانب ایران ایسے اڈوں کو امریکی کارروائیوں میں معاون قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب میزبان ممالک اپنی سرزمین کو براہِ راست امریکا ایران جنگ کا میدان بننے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اب نظریں واشنگٹن کے اگلے قدم پر
تازہ حملوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکا ایران کی جوابی کارروائی کا کس انداز میں جواب دیتا ہے۔ اگر واشنگٹن نے مزید فوجی کارروائی کی تو کشیدگی کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔
خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہاں فوجی کشیدگی میں اضافہ نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یوں لارک جزیرے پر امریکی حملے سے شروع ہونے والی تازہ جھڑپ اب اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اہداف تک پہنچ چکی ہے اور خطے میں ایک بار پھر یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ محدود جوابی کارروائی ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل نہ ہوجائے۔











