ایک نئی تحقیق میں باقاعدگی سے کافی پینے اور جسمانی ساخت و میٹابولک صحت کے بعض بہتر اشاریوں کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ مقدار میں کافی استعمال کرنے والے افراد میں مجموعی اور پیٹ کے اندر جمع ہونے والی چربی، جسے ویسریل فیٹ کہا جاتا ہے، نسبتاً کم جبکہ اسکیلیٹل مسلز کی مقدار زیادہ دیکھی گئی۔
یہ تحقیق فن لینڈ کے ناردرن فن لینڈ برتھ کوہورٹ 1966 کے 46 سالہ فالو اَپ کے دوران جمع کیے گئے 2200 سے زائد افراد کے صحت سے متعلق اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی تھی۔
اس تحقیق میں شرکا سے ان کی کافی پینے کی عادات کے بارے میں معلومات لی گئیں جبکہ ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، کمر اور کولہے کا تناسب، جسم میں چربی کی مقدار اور اسکیلیٹل مسلز سمیت مختلف پیمانے بھی جانچے گئے۔
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ کافی پینے والے افراد میں کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں مجموعی جسمانی چربی اور خاص طور پر ویسریل فیٹ کم پایا گیا، جبکہ ان کے مسلز ماس کے بھی بہتر ہونے کے شواہد ملے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فرق ایسے افراد میں بھی دیکھا گیا جن کا بی ایم آئی ایک جیسا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صرف بی ایم آئی کسی شخص کی جسمانی ساخت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ ایک جیسے بی ایم آئی کے باوجود کسی فرد کے جسم میں چربی اور مسلز کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔
کافی کا میٹابولزم سے تعلق
تحقیق میں کافی کے زیادہ استعمال اور خون میں برانچڈ چین امائنو ایسڈز (بی سی اے اے ) کی کم سطح کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا۔ بی سی اے اے کو میٹابولک صحت کے بعض اشاریوں سے جوڑا گیا ہے اور ان کی بلند سطح موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرے سے وابستہ پائی گئی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف لوکا ویروئسٹ کے مطابق کافی خود بی سی اے اے کا کوئی نمایاں ذریعہ نہیں، اس لیے اس تعلق کو اس طرح نہیں دیکھا جا سکتا کہ کافی صرف خوراک میں موجود امائنو ایسڈز کو تبدیل کر رہی ہے۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ کافی کا استعمال جسم کے کسی میٹابولک عمل سے وابستہ ہو، اگرچہ موجودہ تحقیق اس کی وجہ ثابت نہیں کرتی۔
مردوں میں ہارمونز سے متعلق دلچسپ نتائج
تحقیق میں مردوں اور خواتین کے نتائج کا الگ جائزہ لینے پر ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ مردوں میں زیادہ کافی پینے کا تعلق نسبتاً بہتر گلوکوز-انسولین پروفائل کے ساتھ پایا گیا۔
اس کے علاوہ ایسے مردوں میں ٹوٹل ٹیسٹوسٹیرون، بایوایویلیبل ٹیسٹوسٹیرون اور سیکس ہارمون بائنڈنگ گلوبیولن (ایس ایچ بی جی) کی مقدار بھی زیادہ دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق یہ ہارمونل پیٹرن ان دیگر نتائج سے مطابقت رکھتا ہے جن میں بہتر میٹابولک صحت کا مشاہدہ کیا گیا، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کافی براہِ راست ان ہارمونز کی سطح بڑھاتی ہے۔
ماہرین نے تحقیق کے نتائج کو دلچسپ قرار دیتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تحقیق کی نوعیت مشاہداتی ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کافی پینے کی وجہ سے چربی کم ہوئی یا مسلز میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کافی پینے والے افراد کی طرزِ زندگی، خوراک، جسمانی سرگرمی یا دیگر عوامل ان نتائج میں کردار ادا کر رہے ہوں۔
ماہرین کے مطابق کافی میں صرف کیفین ہی نہیں بلکہ کلوروجینک ایسڈز، ٹرائی گونیلین اور دیگر حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں، اس لیے کافی کے ممکنہ اثرات کو صرف کیفین تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ ہر قسم کی کافی کو یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔ سادہ، بغیر چینی والی بریوڈ کافی اور بھاری مقدار میں چینی، سیرپ، کریم یا دیگر کیلوریز سے بھرپور کافی ڈرنک کے غذائی اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی میٹابولک صحت بہتر بنانا چاہتا ہے تو کافی کو متوازن غذا، مناسب پروٹین اور فائبر، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ کے بہتر انتظام کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔











