اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی افغان جنگ کے دوران شہری جانی نقصان اٹھانے والے بیشتر افراد کو نہ تو انصاف ملا ہے اور نہ ہی ان کے مصائب کا اعتراف کیا گیا ہے۔ کابل میں ایک مقامی متاثرہ شہری نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ دنیا ہمیں بھول چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ کی عسکری مداخلت سے شروع ہونے والی اس دو دہائیوں پر محیط جنگ میں طالبان، داعش، افغان جمہوریہ کی مسلح افواج اور امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں 40 ہزار سے زائد سویلینز جاں بحق اور 77 ہزار زخمی ہوئے۔ کابل کی “تپہ شہداء” نامی پہاڑی اس المیے کی گواہی دیتی ہے، جہاں کابل یونیورسٹی اور تعلیمی مراکز پر حملوں میں جان کی بازی ہارنے والے طلباء اور ہزارہ کمیونٹی کے افراد کی قبریں موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) کے ذریعہ انٹرویو کیے گئے تقریباً 200 متاثرین میں سے 95 فیصد نے ذہنی مسائل، یادداشت کی کمزوری، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات جیسے شدید نفسیاتی اثرات کا سامنا کیا۔ لوگڑ کے ایک کسان خان یوسفی نے بتایا کہ سابق جمہوریہ کے دور میں پولیس کے ٹینک کی فائرنگ سے ان کا آٹھ سالہ بیٹا اور اہلیہ شدید متاثر ہوئے، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں کہیں سے انصاف نہیں ملا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابقہ امن معاہدوں یا موجودہ طالبان حکومت کی جانب سے جنگی جرائم کے احتساب، متاثرین کے حقوق یا انصاف کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بین الاقوامی فوجوں کے جرائم کے مقابلے میں تحقیقات کو محدود رکھا گیا ہے، جب کہ عالمی عدالتِ فوجداری (آئی سی سی) کے پاس وسائل کی کمی کے باعث تحقیقات کا دائرہ کار محدود ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ مالی امداد یا اسکالرشپس کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے اعصاب کو سنبھال سکیں اور ایک بار پھر زندگی کی امیدوں کو بحال کر سکیں۔











