اہم ترین

اسلحے کی نئی دوڑ: میونخ دفاعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کا مرکز

یورپ کی بڑھتی دفاعی ضروریات اور روس سے بڑھتے خطرات کے پیش نظر جرمنی کا شہر میونخ دفاعی ٹیکنالوجی کی نئی کمپنیوں کا اہم مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔

میونخ اور اس کے گردونواح میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز، خودکار دفاعی نظام اور جدید فوجی سافٹ ویئر تیار کرنے والی درجنوں کمپنیاں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ ان میں کوانٹم سسٹمز، ہیل سنگ اور ٹائٹن ٹیکنالوجیز سمیت کئی نئی دفاعی ٹیک کمپنیاں شامل ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق یورپ روس کے بڑھتے خطرے اور امریکا کی سیکیورٹی ضمانتوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنے دفاعی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔ یوکرین جنگ میں ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال نے بھی یورپی افواج کو روایتی ہتھیاروں کے ساتھ نئی ٹیکنالوجیز پر توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔

2015 میں قائم ہونے والی کوانٹم سسٹمز یوکرینی فوج سمیت دنیا بھر کی مختلف افواج کو ڈرونز فراہم کر رہی ہے، جبکہ کمپنی نے زمینی اور سمندری خودکار نظام کے شعبوں میں بھی توسیع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق میونخ کے علاقے میں خالصتاً دفاعی شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپس کی تعداد حالیہ برسوں میں دوگنی ہو کر تقریباً 60 ہوگئی ہے۔ ڈرون بنانے والی کمپنیوں نے بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔

دفاعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں میونخ کی تکنیکی جامعات، ہنرمند افرادی قوت، صنعتی ورثے اور ریاستی تعاون کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ خطے کی روایتی آٹو موبائل صنعت میں ملازمتوں میں کمی بھی دفاعی کمپنیوں کو تربیت یافتہ کارکن فراہم کر رہی ہے۔

تاہم نئی دفاعی کمپنیوں کو سیکیورٹی کلیئرنس، سرخ فیتے اور نئی پیداواری سہولیات کے اجازت ناموں میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

یوکرین جنگ کے باعث جرمنی میں دفاعی صنعت کے حوالے سے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ تاہم دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ جرمنی میں دفاعی صنعت کے بعض سربراہان کو ممکنہ روسی کارروائیوں کے خدشات لاحق ہیں

پاکستان