اہم ترین

ایشین گیمز میں کرکٹرز کو بہترین رہائش ملے گی: جاپانی حکام کی یقین دہانی

جاپان میں رواں ماہ ہونے والے ایشین گیمز میں کرکٹ کھلاڑیوں کو دیگر کئی کھیلوں کے ایتھلیٹس کے مقابلے میں بہتر رہائش فراہم کی جائے گی۔ جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ نے یہ یقین دہانی ایسے وقت میں کرائی ہے جب بعض ایشیائی ٹیموں نے کھلاڑیوں کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلوں اور دیگر سہولیات کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ناوکی الیکس میاجی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ٹیموں کے لیے ہوٹلوں میں رہائش کا انتظام کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر کئی کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کو نسبتاً محدود سہولیات، جن میں کروز شپ اور کنٹینر ہوٹل بھی شامل ہیں، میں ٹھہرایا جائے گا۔

ایشین گیمز 19 ستمبر سے ناگویا اور اس کے اطراف کے علاقے آئچی میں شروع ہوں گے۔ رواں برس کھیلوں کے لیے تقریباً 17 ہزار ایتھلیٹس کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث منتظمین کو رہائش کے انتظامات میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے مقابلے میں 2024 کے پیرس اولمپکس میں تقریباً 11 ہزار ایتھلیٹس شریک ہوئے تھے۔

ایشین گیمز میں روایتی ایتھلیٹس ولیج بھی موجود نہیں ہوگا۔ منتظمین رہائش کے لیے کروز شپ، عارضی لکڑی کے کنٹینرز اور مختلف ہوٹلوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔

کرکٹ کے میچ ناگویا کے مرکزی علاقے سے تقریباً 40 منٹ کی ٹرین مسافت پر واقع کوروگی اسپورٹس پارک میں کھیلے جائیں گے، جہاں ایک بیس بال گراؤنڈ کو کرکٹ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گراؤنڈ پر ڈریسنگ رومز کے لیے خیموں اور نسبتاً دور واش رومز جیسے عارضی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

سری لنکا کے ایک عہدیدار نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ایشیا کی بعض بڑی کرکٹ ٹیموں نے کھیلوں کے دوران سہولیات اور رہائش کے انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ بھی انتظامات سے خوش نہیں اور ممکنہ طور پر اپنی پہلی ٹیم کے بجائے دوسرے درجے کی ٹیم بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔ بھارت نے ابتدائی طور پر شریاس ایئر کی قیادت میں 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا، جس میں 15 سالہ ابھرتے ہوئے کھلاڑی وائبھَو سوریہ ونشی بھی شامل ہیں۔

جاپانی کرکٹ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایشین گیمز میں کرکٹ کے انعقاد کی تیاری کے لیے صرف 17 ماہ ملے اور انہیں تقریباً تمام انتظامات نئے سرے سے شروع کرنا پڑے۔ میاجی کے مطابق محدود وقت اور سہولیات کے باوجود کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ممکنہ حد تک آرام دہ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کرکٹ کی پچ کی تیاری سری لنکا کے 35 ہزار نشستوں والے پالیکلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے کیوریٹر کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ میاجی نے امید ظاہر کی کہ ایشین گیمز میں کرکٹ کی تاریخ میں یہ اب تک کی بہترین کھیل کی سطح اور میدان ثابت ہوگا۔

پاکستان