ہمالیائی خطے میں تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے بعد نیپال کے متاثرہ خاندانوں نے اپنے لاپتا عزیزوں کی علامتی آخری رسومات ادا کرنا شروع کردی ہیں۔ 26 اگست کو گلیشیئر کے انہدام کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب نے چین-نیپال سرحدی علاقے میں دیہات، گھر اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
نیپالی حکام کے مطابق ملک میں اب تک 1114 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ 3916 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ چین میں بھی 16 افراد کی ہلاکت اور 546 کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یوں دونوں ممالک میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 1130 اور لاپتا افراد کی تعداد 4462 تک پہنچ گئی ہے۔
نیپال کے بلند پہاڑی ضلع راسوا کو سیلاب نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر کیا۔ سرکاری عہدیدار دھرو پرساد ادھیکاری نے صورتحال کو ’’ناقابلِ تصور تباہی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی شدت ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ تھی۔
دارالحکومت کھٹمنڈو میں سیکڑوں افراد اپنے لاپتا رشتہ داروں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے جمع کرانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث متعدد نامعلوم لاشوں کو دفن بھی کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب کئی خاندانوں نے اپنے لاپتا عزیزوں کے زندہ ملنے کی امید تقریباً چھوڑ دی ہے۔ ہندو مذہبی روایات کے مطابق بعض خاندانوں نے لاپتا افراد کی جگہ کش گھاس سے بنے علامتی پُتلے نذرِ آتش کرکے آخری رسومات ادا کیں۔
ایک خاتون ڈولما نیوار تمانگ نے اپنے شوہر کی علامتی آخری رسومات کے موقع پر کہا کہ یہ عمل اس لیے کرنا پڑا تاکہ ان کی روح آزاد ہو اور جہاں کہیں بھی وہ ہوں، سکون میں رہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری، امید ابھی باقی
ریسکیو ٹیمیں اب بھی ممکنہ زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ کئی ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگیں کیچڑ، پتھروں اور ملبے سے بھر چکی ہیں، جہاں امدادی کارکن کھدائی، ڈرلنگ اور دھماکوں کے ذریعے راستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب تک سرنگوں سے صرف لاشیں برآمد ہوئی ہیں، تاہم نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے لاپتا افراد میں سے کچھ کے زندہ ہونے کی امید برقرار رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مرحلے پر مکمل طور پر امید ترک نہیں کرنا چاہتے۔
موسمیاتی تبدیلی پر عالمی تشویش
قدرتی آفت کے بعد نیپال میں تباہی کے پیمانے پر غم اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ تقریباً تین کروڑ آبادی والے اس ملک نے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہمالیہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشیئر تقریباً 24 کروڑ پہاڑی آبادی کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ ان کا پانی مزید تقریباً 1.65 ارب افراد تک پہنچتا ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم بالندر شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی سطح کا مسئلہ ہے اور ایسی آفات سے نمٹنا بھی عالمی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی مالیت 158 ملین ڈالر ہے، جبکہ سڑکوں، پلوں، زرعی زمین اور انسانی امداد کے اخراجات شامل کیے جائیں تو مجموعی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ نیپالی حکومت نے تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں لاپتا
اس سانحے میں 30 سے زائد ممالک کے 800 سے زیادہ غیر ملکی بھی لاپتا ہیں۔ ان میں 583 افراد نیپال اور 261 چین میں لاپتا رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں ہمالیہ میں ٹریکنگ کے لیے آنے والے سیاحوں کے علاوہ تبت کے مقدس مقام ماؤنٹ کیلاش جانے والے ہندو یاتری بھی شامل ہیں۔
بھارت میں بھی دریاؤں کے زیریں علاقوں سے کم از کم 17 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
دریں اثنا چین کے سخت متاثرہ تبت کے علاقے گیرونگ پورٹ تک سڑک کا رابطہ کئی روز کی مسلسل مرمت کے بعد بحال کردیا گیا ہے۔ تاہم تبت میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت اور معلومات تک رسائی پر پابندیوں کے باعث وہاں ہونے والی تباہی سے متعلق آزادانہ معلومات محدود ہیں۔ جلاوطن تبتی گروپوں نے چین کے سرکاری اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ آفت سے متعلق معلومات شفاف اور بروقت فراہم کی گئی ہیں۔











