پاکستان کے 16 سالہ سودیس شاہد نے ناسا اور رائس یونیورسٹی ہیوسٹن کے زیر اہتمام سالانہ بین الاقوامی مقابلے“ گلوبل کوپرنیکس اولمپیاڈ “ پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔۔
امریکی ادارہ کوپرنیکس کئی برسوں سے ناسا اور رائس یونیورسٹی کے تعاون سے ہر سال “ گلوبل کوپرنیکس اولمپیاڈ “ کے عنوان سے ذہنی آزمائش کے ایک مقابلے کا انعقاد کرتا ہے۔
“ گلوبل کوپرنیکس اولمپیاڈ “ میں دنیا بھر سے سیکڑوں طلبا حصہ لیتے ہیں۔ عاللمی سطح پر اس کے معیار کے پیش نظر اس میں کامیابی تو ایک طرف رہی کسی کا شرکت کرنا بھی بڑا اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔
ایچی سن کالج لاہور کے اے لیول کے طالبعلم سودیس شاہد نے اولمپیاڈ کی سب سے مشکل کیٹگری 5 میں حصہ لیا۔ اس مقابلے میں امریکا سمیت 22 ممالک کے 500 طلببہ نے حصہ لیا۔ سودیس شاہد نے ناصرف وہ مقابلہ جیتا بلکہ انہیں پورے اولمپیاڈ کا ایک حتمی فاتح بھی قرار دیا گیا۔۔
امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کو انٹرویو میں سودیس شاہد نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے جرمن اولمپیاڈ کے قومی مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ جنوب مشرقی ایشیا کے میتھس اولمپیاڈ اور امیریکن میتھس اولمپیاڈ میں گولڈ ، رائل کوئینز کامن ویلتھ کی طرف سےمنعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے میں چاندی جب کہ انٹر نیشنل یوتھ میتھ چیلنج میں دو بار کانسی کا تمغہ حاصل کرچککے ہیں
سودیس شاہد نے بتایا کہ وہ سال بھر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ریاضی اور سائنس کے تمام مضامین کی بھر پور تیاری کرتے ہیں۔ یہی تیاری انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کی تیاری میں کام آتی ہے۔
ڈاکٹر بن کر طبی میدان میں ملک کا نام روشن کرنے کے خواہشمند سودیس شاہد چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے۔











