اسلام آباد کی ماتحت عدالت نے عمران خان کو 25 مئی 2022 کو کئے گئے لانگ مارچ کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ سے متعلق 2 مقدمات سے بری کردیا۔۔
جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد شائستہ کنڈی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 2022 کے دوران لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بریت کی درخواست پر سماعت کی۔
اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے ان کیسز کی سماعت کی جس میں وکلا نعیم پنجوتھا پیش ہوئے۔
عمران خان کے ترجمان برائے قانونی امور نعیم پنجوتھا نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ آج ہم نے 25 مئی لانگ مارچ کے دو مقدمات میں عمران خان کو بری کروا دیا ہے۔
نعیم پنجوتھا نے مزید کہا کہ عمران خان پر درج دو مقدمات نمبر 593 تھانہ لوئی بھیر اور مقدمہ نمبر 462 تھانہ سہالہ آج زیر سماعت تھے۔ کیسز کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی۔ ان دونوں کیسز میں بریت کی درخواست پر عمران خان کی طرف سے میں نے دلائل دیے۔ اور عدالت نے آج ان دو مقدمات میں عمران خان کو مقدمے سے باعزت بری کر دیا ہے۔ تفصیلی آرڈر بعد میں جاری کیا جائےگا۔
نعیم پنجوتھا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمران خان نے پُرامن احتجاج کیا تھا جس پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ دوران سماعت عدالت سے عمران خان کی پیشی کی درخواست کی جس پر جج نے جواب دیا کہ اگر انھیں کچھ ہوجاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ یوں عدالت نے سابق وزیراعظم کو پیش کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
نعیم پنجوتھا کے مطابق انھوں نے دلائل میں دفعہ 144 کے غیر قانونی نفاذ اور پولیس کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج پر بات کی۔ عدالت کو بتایا کہ اس کے کوئی شواہد یا گواہ نہیں کہ عمران خان کی ایما پر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ ہوا۔











