اللہ تبارک و تعالیٰ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں کیا کچھ ہے یہ جان ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہر سیارے اور ستارے کی اپنی آب و ہوا ہے۔۔ ہماری زمین میں پانی کی بارش ہوتی ہے لیکن ایک سیارہ ایسا جہاں ہر روز پگھلا ہوا لوہا برستا ہے۔
ناسا کی خلائی دوربینوں ہبل اور سپٹزر نے 2013 میں زمین سے 370 نوری سال دور ہمارے نظام شمسی سے لگ ایک سیارہ دریافت کیا ۔ جس کا نام ڈبلیو اے ایس پی 76 بی رکھا گیا۔۔ یہ سیارہ زمین سے ہزاروں گنا زیادہ تابکار مواد جذب کرتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق سیارے کی فضا میں ٹائٹینیم آکسائیڈ اور پانی کی تھوڑی مقدار کے ثبوت ملے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں بیریم، لیتھیم، سوڈیم، میگنیشیم، کیلشیم، مینگنیشیم، پوٹاشیم اور لوہا بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہاں کی فضا ابر آلود اور سرمئی رنگت کی ہے۔
زمین کی طرح یہ بھی ایک ستارے (سورج) کے گرد گھومتا ہے اور اس کا ایک دن ہمارے پونے دو دنوں کے برابر ہے۔ سیارہ بہت گرم ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت دن میں 2500 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ جب کہ رات میں اس کا درجہ حرارت 1500 ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے۔
اس قدر زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے دھاتیں پگھل کر بھاپ بن جاتی ہیں۔ شام میں درجہ حرارت کم ہوتے ہی یہاں لوہے کی بارش ہوتی ہے۔











