کچھ لوگ اس قدر متنازع ہوجاتے ہیں کہ ان کا ہم نام ہونا بھی لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک نام اسامہ بن لادن ہے۔
اسامہ ون لاڈن جمنیز لوپیز نے پہلی بار 2017 میں اس وقت اپنے آبائی ملک پیرو میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے تھے جب انہیں ملک کی انڈر 15 فٹبال ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس نے 2018 میں ایک پروفیشنل فٹ بال کلب کے لیے اپنا آغاز کیا۔ گزشتہ برس اسے پیرو کے فرسٹ ڈویژن میں جگہ دی گئی اور وہ ایک بار پھر اپنے نام کی وجہ سے خبروں میں آ گیا۔
اپنے نام کی خوفناک شہرت کے باوجود، نوجوان فٹ بال کھلاڑی نے ہمیشہ کہا ہے کہ انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، ا کے بھائی کا نام صدام حسین ہے اور ان کے والد اپنے تیسرے بیٹے کا نام جارج بش رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کے ہپاں تیسری اولاد بیٹی ہوئی جس کی وجہ سے وہ اپنی خواہش پوری نہیں کرسکے۔
اسامہ ون لاڈن کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد ان کے والد کو اسامہ کا نام بہت اچھا لگتا تھا ۔ میں 2002 میں پیدا ہوا تو انہوں نے میرا نام اسامہ بن لادن رکھ دیا۔ اس کا نام تھوڑا مختلف ہے لیکن ہسپانوی زبان میں اسے اسی طرح پڑھا جاتا ہے جیسے یہ مشہور ہے۔
نوجوان فٹبالر نے اعتراف کیا کہ میں نے کئی اپنا نام تبدیل کرنے کا سوچا چاہتا تھا لیکن اب میں اس حقیقت کو قبول کرتا ہے کہ میرا کا نام غیر معمولی ہے۔ مجھ میں نام کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے اور وہ امید کرتا ہوں کہ لوگ بھی اس کو سمجھیں گے۔
اسامہ کہتا ہے کہ پیرو میں بھی ہٹلر نامی ایک شخص موجود ہے، یسوع (حضرت عیسیٰ )نے دنیا کو بچایا اور یہاں ان کے ہزاروں ہم نام ہیں جو دنیا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ون لاڈن نے اپنے بیٹے کا نام سینٹیاگو رکھا جو کہ روایتی سا نام ہے لیکن وہ تسلیم کرتا ہے کہ اگر اس کے والد پر چھوڑتے تو اس کا نام جارج بش رکھتے۔











