اہم ترین

خلا میں ناسا کی آنکھ اچانک بند، نئے سیاروں کی کھوج رک گئی

خلائی تحقیق کے امیریکی ادارے ناسا کی خلا میں آنکھ کہے جانے والے مصنوعی سیارے نے اچانک کام بند کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے خلائی سروے میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔

ناسا کے مطابق ٹرانزیٹنگ ایکسو پلینیٹ سروے سیٹلائٹ (ٹیس) کا کام ہمارے نظام شمسی سے دور ایسے سیاروں کی کھوج ہے جن کی آب و ہوا اور ماحول ہمارے کرہ ارض سے مماثلت رکھتا ہو۔

امریکی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ٹیس نے معمول کی سرگرمیوں کے دوران کام بند کیا ہے، اس کی وجوہات جاننے کے کوشش کی جارہی ہے۔ سیٹلائٹ ابھی بہتر حالت میں ہے۔ امید ہے آئندہ دنوں میں اسے دوبارہ آن لائن کردیا جائے گا۔

ٹیس کو 2018 میں ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ وہ اس سے قبل بھیجی کی خلائی دوربین کیپلر کی جگہ لے سکے۔

ٹرانزیٹنگ ایکسو پلینیٹ سروے سیٹلائٹ کا کام ستاروں اور سیاروں کے اندرونی ماحول کا جائزہ لینا ہے ۔ یہ کیپلر کی نسبت زیادہ بہتر اور فعال نظام سے لیس ہے۔

ٹیس نے 2021 میں ایک بڑے ستارے کے خاتمے اور بلیک ہول بننے کے دوران نکلنے والے تیز گاما شعاعوں کے روشن جھماکوں کا سراغ لگایا تھا ۔ اس کھوج نے ٹیس کی افادیت کو مزید اجاگر کیا تھا۔

اس کے علاوہ سیٹلائٹ نے 2022 میں کرہ ارض سے 33 نوری سال دور ہماری زمین سے ہی مشابہ دو چٹانی سیارے دریافت کئے تھے۔ جو اب تک دریافت ہونے والے قریب ترین سیارے ہیں۔

پاکستان