امریکی خلائی ادارے ناسا کے ماہرین نے 47 سال قبل بھیجے گئے خلائی جہاز ’وائجرون‘میں پیدا ہونے والی خرابی دور کرلی ہے جس کے بعد 15 ارب میل دور موجودہ جہاز سے دوبارہ قابل فہم معلومات ملنا دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق وائجر ون کو ناسا نے 1977 میں خلا میں بھیجا تھا۔ 47 سال قبل بھیجے گئے اس جہاز سے زمین پر موجود ماہرین کو اب تک معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
وائجر ون اب بھی مسلسل سفر کررہا ہے۔ اور اس وقت زمین سے کم از کم 15 ارب میل دور موجود ہے۔ یہ پہلا خلائی جہاز ہے جو ہمارے نظام شمسی کی حدود سے باہر نکل کر خلا میں ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں ہاں ستاروں کی شعاعیں نکلتی ہیں ۔ سائنسی اصطلاع میں اس مقام کو انٹر اسٹیلر اسپیس کہا جاتا ہے۔
یہ خلائی جہاز ان دو جہازوں میں سے ایک ہے جس میں ایسی اشیا موجود ہیں جن کا مقصد ہماری دنیا کی کہانی کو کسی دوسرے سیارے کی مخلوق تک پہنچانا ہے۔ اسے “گولڈن ریکارڈز” کہا جاتا ہے۔ اس میں سونے کی 12 انچ موٹی پرت چڑھی تانبے کی ڈسکس ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے نظام شمسی کا نقشہ اور تابکار گھڑی کے طور پر کام کرنے والے یورینیم کا ٹکڑا بھی ہے۔
جہاز میں موجود ان تمام چیزوں کا مقصد جہاز تک پہنچنے والی ممکنہ مخلوق تک ہماری دنیا اور اس جہاز سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ وائجر ون نے فنی خرابی کے باعث 14 نومبر 2023 سے زمین پر قابل فہم ڈیٹا بھیجنا بند کر دیا تھا۔ ماہرین نے جہاز کی فنی خرابی کو لاکھوں میل دور سے ہی ٹھیک کرلیا ہے ۔ جس کے بعد اس جہاز سے دوبارہ معلومات کی فراہمی شروع ہوگئی ہے۔
وائجر ون خلائی جہاز “گولڈن ریکارڈز” رکھتے ہیں، یعنی 12 انچ، سونے کی چڑھائی ہوئی تانبے کی ڈسکیں جن کا مقصد ہماری اس دنیا کی کہانی کو ماورائے دنیا تک پہنچانا ہے۔
ان میں ہمارے نظام شمسی کا نقشہ، اور یورینیم کا ایک ٹکڑا شامل ہے جو تابکار گھڑی کے طور پر کام کرتا ہے جو وصول کنندگان کو خلائی جہاز کے آغاز کی تاریخ بتاتا ہے، اور علامتی ہدایات جو یہ بتاتی ہیں کہ ریکارڈ کو کیسے چلایا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وائجر ون میں موجود پاور بینکس آئندہ برس ختم ہوجائیں گے۔ جس کے بعد زمین سے اس کا رابطہ ٹوٹ جائے گا اور یہ جہاز ہمارے کرہ ارض سے لاکھوں میل دور بھٹکنے لگے گا ۔











