اسرائیل کے حملے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلی مرتبہ باضابطہ ہدایات جاری کردی ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران سپریم لیڈر نے کہا کہ عوامی طاقت کسی ملک کی سلامتی کو برقرار رکھتی ہے ۔ کسی ملک کا ہر طرح مضبوط ہونا اس کی طاقت ہے۔ ہم نے جب بھی طاقت کے حصول سے منہ موڑا، دشمن ہم پر حاوی ہوا۔
علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ نااہلوں، غداروں اور دوسروں پر تکیہ کرنے والوں کا یہ ناقابل معافی جرم ہے کہ قوم کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ اپنا دفاع نہ کر سکے۔
اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت ۤسے متعلق دنیا ایک بڑی غلطی کر رہی ہے۔ خاص طور پر اقوام متحدہ اور اس جیسی بین الاقوامی تنظیمیں اسے لگام دینے میں ناکام ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ لبنان میں وحشیانہ جنگی جرائم کئے جارہے ہیں۔ بلاشبہ جنگ ایک سخت چیز ہے لیکن اس کے بھی اصول، قوائد اور حدود ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جب کوئی کسی سے لڑتا ہے تو وہ ان تمام حدوں کو روند ڈالے یا کچل دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی حکومتوں کو اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ اسرائیلکی تھوڑی سی بھی مدد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسرائیل کو جرائم سے روکنے کے لئے ایک عالمی سیاسی ، اقتصادی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا جانا چاہیے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہدایت کی کہ ایران پر اسرائیلی حملے کو نہ تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور نہ ہی معمولی سمجھا جانا چاہیے۔ صیہونی حکومت کی غلط فہمی دور کرنی ہوگی۔ اسے ایرانی قوم اور جوانوں کے عزم اور حوصلے سے سمجھانا ہوگا۔











