اہم ترین

تجارتی ادائیگیاں ڈالرز میں کرو ورنہ ٹیکس دُگنا: ٹرمپ کی برکس ممالک کو دھمکی

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ڈالر کے متبادل کے طور پر اپنی کرنسی متعارف کرواتے ہیں تو امریکا ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کردے گا ۔

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے لیکن اس سے پہلے ہی وہ ایسے اعلانات کررہے ہیں جس سے تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں کو بڑے نقصان کے خطرات کا سامنا ہے۔

چند روز قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ عہدہ سنبھالتے ہی چین ، کینیڈا اور میکسیکو سے ہونے والی درآمدات پر مزید 25 فیصد اضافہ کریں گے ۔ لیکن اب اس کا شکار بھارت سمیت برکس ممالک بھی ہوں گے ۔

برکس اتحاد برازیل، روس، انڈیا، چین اور ساؤتھ کوریا پر مشتمل تھا لیکن اس کے بعد اب اس میں ایران، مصر، ایتھوپیا اور یو اے ای بھی شامل ہوگیا ہے۔ پاکستان نے بھی اس اتحاد کی رکنیت کی درخواست دے رکھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ڈالر کے متبادل کے طور پر اپنی کرنسی لاتے ہیں تو امریکا ان پر 100 فیصد محصولات عائد کردے گا ۔ یعنی ان ممالک سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کی وجہ کیا ہے ؟ اس خبر میں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اگر برکس ممالک ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی لاتے ہیں تو اس سے امریکا کو بڑا نقصان ہوگا ۔

ٹرمپ نے کیا کہا ؟

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ،” “آئیے خاموشی سے برکس ممالک کی ڈالر سے الگ ہونے کی کوشش کو دیکھیں ، یہ دور اب ختم ہو گیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں برکس ممالک سے اس عزم کی ضرورت ہے کہ وہ نہ تو نئی برکس کرنسی بنائیں گے اور نہ ہی امریکی ڈالر کی جگہ لینے کے لیے کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں 100 فیصد محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

نومنتخب امریکی صدر نے کہا کہ اگر برکس ممالک ایسا کرتے ہیں تو وہ عظیم امریکی معیشت میں اپنی مصنوعات فروخت نہیں کر پائیں گے ۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ برکس بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کی جگہ لے سکے اور ایسا کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کو الوداع کہنا چاہیے ۔

برکس ممالک کی کرنسی سے امریکا کو کتنا نقصان پہنچے گا ؟

ڈالر کی کم مانگ اس کی قیمت میں کمی کا باعث بن سکتی ہے ، جس سے امریکی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے ۔ مزید برآں ، کمزور ڈالر درآمدات کو مہنگا بنا دے گا، جس سے امریکی تجارتی خسارہ بڑھ جائے گا ۔ امریکا معاشی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ڈالر کا استعمال کرتا ہے ، اگر ڈالر کی گرفت کمزور ہوئی تو امریکی پابندیوں کا اثر بھی کم ہو جائے گا ۔

اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ، دنیا بھر میں کاروباری لین دین ، بین الاقوامی ادائیگیاں ، قرضے ، درآمدات اور برآمدات امریکی ڈالر میں کی جاتی ہیں ۔ ڈالر دنیا کے ذخائر کا 59 فیصد ہے۔ اسی طرح دنیا کے کل قرض کا 64 فیصد ڈالر میں لین دین ہوتا ہے ۔ بین الاقوامی لین دین میں ڈالر کا بھی تقریبا 58 فیصد کا بڑا حصہ ہے ۔

ڈالر غیر ملکی ادائیگیوں پر بھی حاوی ہے ۔ یہ 88 فیصد پر مشتمل ہے ۔ ایسے میں اگر برکس ممالک ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی لاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر امریکا اور اس کے کرنسی ڈالر پر نظر آئے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا برکس ممالک کے اس اقدام سے خوفزدہ ہے ۔

برکس ممالک کی کرنسی

برکس ممالک کی مشترکہ کرنسی پر اگست 2023 میں جنوبی افریقا میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں برکس ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مشترکہ کرنسی بنانے کی تجویز پیش کی گئی ۔ اس سال بھی اکتوبر میں برکس ممالک کے اجلاس میں روس نے اس تجویز کے لیے سخت لابنگ کی تھی۔

پاکستان