ریکھا اور امیتابھ بچن بھارتی سنیما کے دو افسانوی نام ہیں جن کے بارے میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ دونوں کی محبت کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے ۔ اگرچہ یہ جوڑا بعد میں الگ ہو گیا ، لیکن ان کی کہانیاں آج بھی سنی اور سنائی جاتی ہیں۔ 70 اور 80 کی دہائی میں بالی ووڈ کے ولن رنجیت نے اپنے ایک انٹرویو میں ریکھا اور امیتابھ بچن کے بارے میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا تھا۔
رنجیت اپنے وقت کے مقبول ترین ولنز میں سے ایک تھے ۔ انہوں نے “کارنامہ” کے نام سے ایک فلم کی ہدایت کاری بھی کی تھی۔ اس فلم میں دھرمیندرا اور ریکھا نے مرکزی کردار ادا کرنے تھے ۔
ایک انٹرویو کے دوران رنجیت نے انکشاف کیا کہ ریکھا نے امیتابھ بچن کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ان کی فلم کو چھوڑ دی تھی ۔
رنجیت نے انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ان کی زیادہ تر فلمیں شام کی شفٹ کے لیے شیڈول کی گئی تھیں۔ تاہم اداکارہ نے اپنے شوٹنگ کے شیڈول سے متعلق ایک بہت ہی عجیب درخواست کی۔ جب رنجیت نے اس کی درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو اداکارہ نے سائن کرنے کی پوری رقم واپس کر دی اور فلم چھوڑ دی ۔
ریکھا کی درخواست بہت سادہ لیکن پیچیدہ تھی ۔ وہ امیتابھ بچن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھیں اور اس کے لیے وہ بگ بی کے شیڈول کے مطابق فلم کی شوٹنگ کا شیڈول چاہتی تھیں۔ کارنامہ کا پورا پہلا شیڈول شام کی شفٹ کا تھا۔ ایک دن ، ریکھا نے فون کیا اور درخواست کی کہ کیا وہ شوٹنگ کے شیڈول کو صبح کی شفٹ میں منتقل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ شام امیتابھ بچن کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں ۔
رنجیت نے کہا کہ مجھے فلم میں تاخیر کرنی پڑی اور دھرمیندر دیگر مصروفیات میں مصروف ہو گئے۔ پھر ریکھا کے بجائے انیتا راج کا نام تجویز کیا گیا۔ آخر کار انہوں نے فرح ، کیمی کاٹکر اور ونود کھنہ کے ساتھ فلم بنائی۔ 190 میں یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے اوسط کاروبار کیا











