وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستانی کمپنیوں پر حالیہ امریکی پابندیوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایسا قطعی کوئی ارادہ نہیں رکھتا کہ ہمارا جوہری نظام جارحانہ عزائم پر مبنی ہو۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا ہے، جو انہیں زیادہ عزیز ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پوری قوم اس پروگرام پر یکسو ہے اور پوری طرح متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیفنس کمپلیکس اور دیگر پاکستانی اداروں امریکی پابندیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اکستان قطعی طور پر کوئی ایسا ارادہ نہیں رکھتا جہاں ہمارا نیوکلیئر سسٹم جارحانہ ہو۔ ہمارا جوہری سسٹم مکمل طور پر دفاعی ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کا دفاع ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ہماری محنت کے ثمرات عام آدمی تک اس وقت تک نہیں پہنچ پائیں گےجب تک ہم مکمل طور پر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کر لیتے ۔ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں فرقہ وارانہ فسادات انتہائی افسوسناک ہے، دونوں گروپ مسلح ہیں اور اس لڑائی میں دونوں اطراف سے کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ صوبائی حکومت وفاق پر چڑھائی کے بجائے اپنی توانائی شدت پسندی کا سر کچلنے کے لیے استعمال کرتی تو شاید نقصان اتنا زیادہ نہ ہوتا۔











