تحریک انصاف کے وفد نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی ہے جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے عدلیہ میں اپنے اصلاحی ایجنڈے پر وسیع تر مشاورت حاصل کرنے کی کوششوں کے طور پر پی ٹی آئی قیادت کو مدعو کیا۔ ملاقات میں چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وفد کو نیشنل جسٹس پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی متوقع میٹنگ کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ انھیں پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے پیش کردہ پالیسی تجاویز پر ردعمل دینے کے لیے وقت درکار ہے۔
چیف جسٹس نے وفد کو بتایا کہ انھوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ان سے اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کی رائے فراہم کرنے کی درخواست کی۔وزیراعظم نے اسے مثبت انداز میں لیا اور پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کے عمل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
چیف جسٹس سے تحریک انصاف کے پانچ رکنی وفد کی یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی۔ پی ٹی آئی وفد نے اتفاق کیا کہ ملک میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ عوام کو ریلیف اس وقت مل سکے گا جب عدلیہ زیر التوا مقدمات کو فعال طریقے سے نمٹائے۔
اس دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے ملاقات میں جیل میں موجود پی ٹی آئی لیڈرعمران خان، دیگر رہنماؤں اور پارٹی کے کارکنوں کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔
عمر ایوب خان نے چیف جسٹس سے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کے مقدمات کو جان بوجھ کر ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر مقرر کیا جاتا ہے تاکہ عدالت میں پیش ہونا ناممکن ہو جائے۔
اعلامیے کے مطابق عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ ملک کی اقتصادی استحکام قانون کی حکمرانی پر منحصر ہے اور معاشی بحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب عدلیہ اپنا کردار ادا کرے اور انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔











