جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے گزشتہ برس ملک میں مارشل لا لگانے والے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی توثیق کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جونبی کوریا کے صدر یون سک یول نے گزشتہ برس ملک میں مارشل لاء کا اعلان کرتے ہوئے اس کی منسوخی روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں فوج بھیجی تھی۔ جسے ملک کی حکومت نے عوام کی زبردست حمایت سے ناکام بنادیا تھا۔
جنوبی کوریا کی حزب اختلاف کی زیرقیادت پارلیمنٹ نے بعد ازاں دسمبر کے وسط میں یون کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں انہیں عہدے سے معطل ہونا پڑا۔ اپنے مواخذے کے بعد بھی یون وسطی سیول میں اپنے صدارتی کمپاؤنڈ میں رہتے ہوئے دو ہفتوں تک گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔
یون سک یول کا کہنا تھا کہ “قوم کو بحران کا سامنا” تھا۔ اسی وجہ سے انہیں ملک میں قلیل المدتی مارشل لا کا اعلان کرنا پڑا۔
جنوبی کوریاکے صدر کورواں برس جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دارالحکومت سیول کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے گرفتاری کے وارنٹ کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کر دیا تھا۔
معاملہ ملک کی آئینی عدالت کے روبرو آیا جہاں معاملے کی سماعت کو براہ راست نشر کیا گیا۔ عدالت کے 8 رکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں یون کے مواخذے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
عدالت کے قائم مقام چیف مون ہیونگ بی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یون کے اقدامات سے جمہوری حکومت اور قانون کے اصولوں کی پامالی ہوئی ہے اور اس سے آئین کی اہمیت اور جمہوری ریپبلک کی سالمیت کو ٹھیس پہنچی ہے۔
فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہ (یون سک یول ) کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات نے عوام کو گمراہ کیا اور یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے آئین کے تحفظ کے نکتہ نظر سے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کی رو سے آئین کے مطابق ملک میں آئندہ60 روز میں نئے صدارتی انتخابات ہوں گے۔ وزیر اعظم ہان ڈک سو نئے صدر کے حلف اٹھانے تک قائم مقام صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
ہان نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے صدارتی انتخابات کو آئین کے مطابق منظم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔











