دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کرنا مہنگا پڑ گیا۔ انہیں اس اعلان کے بعد 76 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
امریکا کے گزشتہ صدارتی انتخاب میں ایلون مسک کا شمار ٹرمپ کے سب سے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ صدارتی انتخابات کے لئے ایلون مسک نے ناصرف ایکس پر ٹرمپ کی بھرپور انتخابی مہم چلائی بلکہ کروڑوں ڈالر کے عطیات بھی دیئے۔
صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے حکومتی اخراجات میں کمی اور امریکا کو درپیش کھروں ڈالر کے خسارے میں کمی کے لئے نیا محکمہ قائم کیا تھا۔ جس کی سربراہی انہیں سونپی گئی تھی۔ لیکن چند ہی ہفتوں میں تعلقات مٰں سرد مہری آگئی۔۔ ٹرمپ نے ٹیکس کٹوتی اور اخراجات میں کمی کے بل پر دستخط کئے تو ایلون مسک نے امریکا پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعت کا اعلان ایلون مسک کو کاروباری لحاظ سے مہنگا پڑ رہا ہے۔ جب سے انہوں نے امریکا پارٹی بنائ ہے انہیں 76 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور یہ نقصان ہر روز بڑھتا ہی جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1 کھرب ڈالرز سے کم ہوکر 940 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے، کمپنی میں ایلون مسک کے ذاتی شیئرز میں تقریباً 10 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے جن کی قیمت اب 120 ارب ڈالرز سے کم ہے۔ اتنے بڑے مالی نقصان کے باوجود بھی ایلون مسک تقریباً 400 ارب ڈالرز کی مجموعی مالیت کے ساتھ فوربز میگزین کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں سرِ فہرست ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ صورتحال دیکھ کر سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایلون مسک کی سیاسی شمولیت ان کی توجہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹا سکتی ہے۔











