اہم ترین

ترکیہ میں تشدد کا41 سالہ دور بند: علیحدگی پسندوں نے مسلح جدو جہد ختم کردی

ترکیہ میں الگ عطن کے لئے مسلح اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالنے شروع کردیئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے صوبے سلیمانیہ میں 60 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع دُکان کے قصبے میں جسانہ غار میں تقریب کے دوران پی کے کے کے مسلح اراکین نے ہتھیار ڈالناے شروع کر دیے۔

تقریب کے دوران عراق کی کرد سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) 1984 سے ترکیہ میں مسلح جدوجہد کررہی ہے۔ ان کا مقصد عراق ، شام اور ترکیہ میں کرد اکثریتی علاقوں کو ملا کر کرد ریاست کی تشکیل ہے۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے گرائےجانے کے بعد کردوں نے ریاست کے اندر ہی ایک ریاست قائم کرلی ہے جس میں وہ خودمختار ہیں۔

پارٹی کے اسیر رہنما عبداللہ اوجلان نے رواں برس فروری میں ایک پیغام میں اپنے ساتھیوں کو ہتھیار ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

ترکیہ میں اس واقعے کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جارہا ہے۔ ریاستی اداروں کے مطابق یہ اقدام ترکیہ کی مسلسل مسلح کارروائیوں اور خارجہ میدان میں کامیابیوں کا آئینہ دار ہے۔

پاکستان