ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کا کوئی ملک جاپان کا ثانی نہیں رکھتا ۔ اب جاپان کے محققین نے 1.02 پیٹا بٹس فی سیکنڈ کی شاندار انٹرنیٹ اسپیڈ حاصل کرتے ہوئے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
جاپان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (این آئی سی ٹی) نے سومیٹومو الیکٹرک اور یورپی شراکت دار کے ساتھ مل کر یہ ریکارڈ بنانے والی کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کے منفرد 19 کور آپٹیکل فائبر کیبل نے 1808 کلومیٹر سے زیادہ کی زبردست اسپیڈ سے ڈیٹا منتقل کیا جو کہ تقریباً لندن سے روم کی دوری کے برابر ہے۔
یہ اسپیڈ امریکا کے اوسط انٹرنیٹ کنکشن سے 35 لاکھ گنا اور بھارت کی اوسط اسپیڈ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے۔ اس ٹیسٹنگ میں حاصل کی گئی ایک ارب 2 کروڑ ایم بی سی ایس کے مقابلے میں امریکا کی اوسط براڈبینڈ اسپیڈ 290 ایم بی پی ایس ہے۔
اس اسپیڈ کی بات کریں تو نئی ٹیکنالوجی سے پوری نیٹ فلیکس لائبریری ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یا وار زون جیسے بڑے 150 جی بی ویڈیو گیم پلک جھپکتے ہی ڈاؤن لوڈ ہو سکتے ہیں۔
جاپانی ماہرین کو یہ کامیابی کیبل کے ڈیزائن سے ملی ہے، سنگل لائٹ پاتھ کا استعمال کرنے کے بجائے فائبر 19 مختلف کور کو موجودہ کیبل کے مساوی معیاری قطر میں شامل کرتا ہے۔ اس سے ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لیے 19 لین سپر ہائی وے تیار ہوتا ہے، جو موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔
ٹیم نے بہتر ایمپلیفیکیشن سسٹم تیار کرکے روایتی سگنل ڈی گریڈیشن چیلنجز کا حل نکالا، جو ایک ساتھ کئی ویولینتھ بینڈز میں سگنل کو بڑھاتی ہیں۔ ایڈوانس سگنل پروسیسنگ کے ساتھ 180 ویولینتھ کا استعمال کرکے طویل فاصلے پر سگنل کی طاقت کو برقرار رکھا گیا۔
فی الحال یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مراحل میں ہے لیکن اسے یہ مستقبل کی ڈیٹا ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ اب اس قسم کی ٹیکنالوجی سے پوری طرح سے انفراسٹرکچر کو بدلے بغیر ہی نیٹ ورک کی صلاحیت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔











