چین کے ژیجیانگ صوبے میں ایک 90 سالہ ماں ان دنوں بحث میں ہیں۔ انہوں نے خود سے قانون کی پڑھائی شروع کی، تاکہ اپنے بیٹے کو اربوں روپے کے بلیک میل کیس میں بچا سکیں۔ بیٹے کی گرفتاری کے بعد ماں ہر دن عدالت جاتی ہیں، کیس سے جڑے دستاویزات پڑھتی ہیں اور جرائم کے قانون پر گہرائی سے مطالعہ کرتی ہیں۔
ہی نامی خاتون کا بیٹا 57 سالہ لین اپریل 2023 میں چینی سرمایہ کار ہواں کو بلیک میلنگ کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔ 2009 میں ہواں اور گیس پروڈکشن کاروبار میں پارٹنر تھے۔ ہواں کی مسلسل تاخیرسے رقم ادائیگی پر لین کو بھاری نقصان ہوا اور اسے فیکٹری بندکرنی پڑگئی۔
لین پر الزام ہےکہ اس نے اپنے اکاؤنٹنٹ کے ساتھ مل کر 2014 سے 2017 کے درمیان لین ہواں سے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں شکایت کرنے کی دھمکی دے کر 117 ملین یوان وصول کیے۔ 2023 کی شروعات میں ہواں نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور معاملہ عدالت پہنچ گیا۔
جب ہی نے پہلی بار اپنے بیٹے کو ہتھکڑیوں میں دیکھا تو وہ جذباتی ہو گئیں ۔ ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال جانے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، کیونکہ وہ بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔
انہوں نے کتابوں سے کریمنل لا اور کریمنل پروسیجر کی پڑھائی کی، کورٹ کے پرانے کیس پڑھے اور اپنے بیٹے کی پیروی خود کرنے لگیں۔ خاندان کے مخالفت کے باوجود ان کا کہنا تھا، میں بیٹے کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔
اس کہانی نے سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کا دل چھو لیا ہے. لوگ اسے ماں کے پیار اور جذبے کی مثال بتا رہے ہیں. ان کی یہ ہمت ثابت کرتی ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور اپنے بچوں کے لیے ماں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے.











