جیلی فش کے لشکر نے فرانس کو نیوکلیئر پاور پلانٹ کو بند کرنے پر مجبور کر دیا۔۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی توانائی گروپ الیکٹرسیٹی ڈی فرانس (ای ڈی ایف) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرانس کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھروں میں سے ایک کے چار ری ایکٹر یونٹس کو پانی کی پمپنگ اسٹیشنز میں جیلی فش کے حملے کی وجہ سے بند کرنا پڑا ہے۔
ای ڈی ایف کے مطابق گریولینز کے بجلی گھر کے تین ری ایکٹر یونٹس اتوار کی دن جب کہ چوتھا وی ایکٹر پیر کی صبح بند ہوا ۔ تاہم اس سے بجلی گھر، اس کے ملازمین اور ماحول کو کوئی خطرہ نہیں۔ چاروں ری ایکٹرز پانی کے پمپنگ اسٹیشنز کے فلٹر ڈرمز میں جیلی فش کی بڑی اور غیر متوقع موجودگی کے باعث بند ہوئے۔
ای ڈی ایف نے کہا ہے کہ ماہرین پر مشتمل ٹیمیں بجلی گھر کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے معائنہ کر رہی ہیں۔ امید ہے کہ بند کیے گئے ری ایکٹرز 14 اگست تک دوباری فعال کردیئے جائیں گے۔
شمالی فرانس میں واقع یہ پلانٹ ملک کے سب سے بڑے پلانٹس میں سے ایک ہے اور اسے برطانیہ، فرانس، جرمنی ، ڈنمارک اور ناروے کے درمیان بحیرہ شمال سے منسلک ایک نہر سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔
مقامی ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران بحیرہ شمال میں جیلی فش اور دیگر انواع کی آبی حیات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ محولیاتی تبدیلیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے بحیرہ شمال کے پانی کا درجہ حرارت بڑھا ہے اور حالات جیلی فش کے پھلنے پھولنے اور افزائش نسل کے لیے زیادہ موزوں ہوگئے ہیں۔











