پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ مجید بریگیڈ ایک دہشتگرد تنظیم ہے ۔ پاکستان بھارت جنگ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے کھل کر مودی کا ساتھ دیا ۔ امریکا جیسے ملک نے اسے دہشتگرد قرار دے دیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اقوام متحدہ بھی اسے دہشتگرد قرار دے۔
حیدر آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مودی سرکار دریائے سندھ کا پانی روکنے کے اعلان سے باز نہیں آرہی، لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کو اس کے حق کا پانی دینا پڑے گا، دریائے سندھ پاکستانیوں کے لیے لائف لائن ہے، اس معاملے پر سندھ کے لوگوں کا ساتھ چاہیے، تمام پاکستانی اس پر یکساں آواز اٹھائیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی کا سوال ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سیاسی افہام و تفہیم سے کی گئی۔ عدالتی اصلاحات کرنے کی بات میثاق جمہوریت میں بھی کی گئی تھی۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی تمام صوبوں کو آئینی بینچز میں برابر کی نمائندگی ملنا ہے ، جسٹس قاضی فائز عیسی کو آئینی بینچ کا سربراہ بننا تھا لیکن ایک جماعت نے مطالبہ کیا تو ہم اس سے پیچھے ہٹے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کی افواہیں چل رہی ہیں، یہ میڈیا کے دوستوں سے سن رہا ہوں، آئینی میں نئی ترامیم کے حوالے سے کسی جماعت نے مجھ سے یا میری پارٹی سے رابطہ نہیں کیا۔ 18 ویں ترمیم میں ہم نء وفاق کے 40 ادارے ذمہ داریاں صوبوں کو تفویض کیں۔
این ایف سی کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نالائقیاں، نااہلیاں اور کمزوریاں ہیں کہ ان کا ایف بی آر ٹیکس نہیں جمع کرسکتا، یہ اسلام آباد میں بیٹھے بابوؤں کا قصور ہے۔











