اہم ترین

غزہ میں موت ہی موت: اسرائیلی حملوں اور غذائی قلت سے مزید 81 فلسطینی شہید

غزہ مین ہر جانب موت ہی موت رقصاں ہے۔ اسرائیلی حملوں اور غذائی قلت سے مزید 81 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی ناکہ بندی اور وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خوراک ، ایندھن اور طبی سامان کی ترسیل ایک مرتبہ پھر روک دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جاری امدادی ناکہ بندی کے درمیان غزہ بھر میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے اور یہ صرف بھوک نہیں ہے بلکہ شدید قحط کی صورت حال ہے ۔غذائی قلت ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ زندگی بھر کے لئے انسان کی نشو و نما پر اثر انداز ہوتی اور مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے ، اس سے عام بیماریاں بھی مہلک ہوجاتی ہیں ۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں ہر تین میں سے تقریبا ایک فلسطینی بچہ اب غذائیت کی کمی کا شکار ہے ۔

مقبوضہ وادی میں اسرائیلی حملوں اور غذائی قلت سے مزید 81 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

گزشتہ روز (20 اگست 2025)تین دیگر فلسطینی بچے بھوک سے مر گئے ، جس سے غذائی کمی کا شکار ہوکر شہیدہونے والوں اموات کی کل تعداد 269 ہو گئی ، جن میں 112 بچے بھی شامل ہیں ۔

بدھ کے روز کم از کم 30 افراد کو امدادی سامان کی تقسیم کے دورانفائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ہے۔جب میں سابق فلسطینی قومی باسکٹ بال کھلاڑی محمد شعلان بھی شامل تھے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری حملوں میں شہید فلسطینی بچوں کی تعداد 18 ہزار 885 ہو گئی ہے۔ مجموعی طور پر کام شہادت نوش کرنے والوں کی کی تعداد 62 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے، جن میں خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

پاکستان