لاہور ہائی کورٹ نے قیام پاکستان کے بعد بھارت میں چھوڑی زمین کے بدلے ملی جائیداد پر بہن کی اولاد کو حصہ دینے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے جمشید سمیت دیگر کی اپیل پر 29 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔ جس میں کہا گیا کہ تقسیم ہند سے کریم بخش کی بھارت کے موضع براس میں زمین تھی۔ لیکن قیام پاکستان سے پہلے اس انتقال ہوچکا تھا ۔کریم بخش کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ کریم بخش کی جائیداد اسکے بڑے بیٹے عبدالغفور کو منتقل ہوئی۔ جو قیام پاکستان کے وقت مارا گیا۔
فیصلے کے مطابق عبدالغفور کی فیملی نے سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشں آرڈینس 1948 کے تحت بھارت میں پراپرٹی کے عوض پاکستان میں جائیداد کی درخواست کی۔جس پر سرکار نے 1952 میں عبدالغفور کی بیگم اور مرحوم کے ایک بھائی کو کامونکی میں پراپرٹی الاٹ کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ بہن بھائیوں میں طے پائے گئے معاہدے کے تحت اتھارٹیز نے جائیداد عبدالغفور کی بیگم اور بھائی میں تقسیم کی۔ متعلقہ معاہدے میں عبدالغفور کی بہن غفوران بی بی کا ذکر نہیں تھا۔
ریکارڈ کے مطابق بہن غفوارں بی بی 1988 تک زندہ رہی مگر اس معاہدے کے خلاف کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ غفوارں بی بی کا بھائی 1985 تک زندہ رہا اور پراپرٹی اس کی اولاد میں تقسیم کردی گئی۔
غفوراں بی بی کی اولاد نے پہلی مرتبہ 2009میں دعوی دائر کیا۔ ٹرائل کورٹ نے 2013 میں غفوراں بی بی کی اولاد کا دعوی مسترد کردیا۔ اپیل کنندہ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا۔ عدالت نے 2015 میں ٹرائل کورٹ کو دوبارہ دعوے پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
غفوراں بی بی کی وفات کے 21 سال تک اس کی اولاد بالکل خاموش رہی اور معاہدے کا ذکر نہیں کیا۔ غفوارں بی بی کی اولاد نے اچانک 2009 میں دعوی دائر کیا جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق 1952 میں ہونے والے معاہدے میں شریعت ایکٹ لاگو ہوتا تھا۔ٹرائل کورٹ نے دعوی تاخیر سے دائر ہونے کو یکسر نظر انداز کیا ۔عدالت ٹرائل کورٹ کا بہن کی اولاد کے حق میں جاری ڈگری کو کالعدم قرار دیتی ہے ۔











