خلائی تحقیق سے متعلق امریکی ادارے ناسا نے انسانوں کو مستقبل میں مریخ پر بھیجنے کی تیاری میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ایجنسی حال ہی میں اپنا خاص 3 ڈی پرنٹڈ ہیبی ٹیٹ (گھر)سب کے سامنے لایا ہے ۔ جسے مارش ڈیون الفا یا چاپیا ہیبی ٹیٹ کہا جاتا ہے۔
امریکا کے شہر ہیوسٹن میں واقع جونسن اسپیس سینٹر میں بنے اس 1700 مربع فٹ کے ڈھانچے کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ بالکل مریخ جیسی صورتحال کا تجربہ کرائے۔ یہاں پر محدود وسائل، 22 منٹ تک کا کمیونیکیشن ڈیلے، قرنطینہ اور ذہنی دباؤ جیسے حالات عملے کو جھیلنے پڑتے ہیں، تاکہ اصلی مریخی مشن سے پہلے ہی سائنسدان ان چیلنجز کو سمجھ سکیں۔
ناسا نے اس ہیبی ٹیٹ میں چار رضاکاروں کو قریب ایک سال تک رکھا۔ انہوں نے یہاں مریخ کی سطح پر چہل قدمی سمیولیشن، روبوٹ آپریشن اور یہاں تک کہ سبزیاں اگانے جیسے کام کیے۔ اتنا ہی نہیں، ٹیم نے تناؤ اور تنہائی جیسے ذہنی چیلنجز کا بھی سامنا کیا۔ اس ڈیٹا سے انہیں سمجھنے میں مدد ملی کہ طویل مدتی خلا کے مشن انسانوں کے جسم اور دماغ پر کتنا اثر ڈال سکتے ہیں۔
اب ناسا اس پروجیکٹ کو اگلے مرحلے پر لے جا رہا ہے۔ چاپیا مشن کی یہ سیریز کل تین بار منعقد ہوگی۔ پہلا مشن 2023-24 میں مکمل ہوا اور اب دوسرا مشن اس سال اکتوبر سے شروع ہونے والا ہے۔ میڈیا کو حال ہی میں اس ہیبیٹیٹ کا دورہ بھی کرایا گیا، تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ عملہ کس طرح مریخ جیسے ماحول میں رہنے اور کام کرنے کی مشق کرتا ہے۔
ناسا کا ماننا ہے کہ ان مشنوں سے نہ صرف سائنسی تحقیق میں مدد ملے گی، بلکہ مریخ پر انسانی بستی بسانے کا خواب بھی آہستہ آہستہ حقیقت کے قریب جائے گا۔











