آج کے زمانے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز، خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی ، ہماری روزمرہ کی زندگی کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔ یہ ہمیں پڑھائی، کام کاج اور معلومات تلاش کرنے جیسے کئی کاموں میں مدد کرتا ہے۔ لیکن اس کی حدود کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی بار لوگ اپنی ذاتی معلومات یہاں شیئر کر دیتے ہیں جس سے مستقبل میں پریشانی کھڑی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے وقت انتہائی محتاط رہنا ضروری ہے۔
سب سے پہلی اور بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنی ذاتی شناخت سے جڑی کوئی بھی معلومات، جیسے مکمل نام، گھر کا پتہ یا کوئی دیگر نجی تفصیلات، چیٹ جی پی ٹی کو نہیں دینی چاہیے. اسی طرح، فون نمبر، ای میل آئی ڈی یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات شیئر کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا استعمال دھوکہ دہی اور ہیکنگ کے لیے کیا جا سکتا ہے.
مالی معاملات کی بات کریں تو بینک اکاؤنٹ نمبر، کریڈٹ کارڈ کی معلومات، آئی ڈی اور پاس ورڈ جیسی تفصیلات کا اشتراک کرنا آپ کے لیے بھاری نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اتنا ہی نہیں کسی بھی سرکاری دستاویز سے جڑی معلومات بھی چیٹ جی پی ٹی کو نہیں دینی چاہیے۔ یہ تفصیلات آپ کی مالی اور ذاتی سیکیورٹی سے براہ راست جڑی ہوتی ہیں اور ان کے لیک ہونے سے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ وہیں، دفتر سے جڑے خفیہ کاغذات یا قانونی دستاویزات یہاں شیئر کرنا بھی آپ کی پروفیشنل اور ذاتی پرائیویسی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
صحت سے متعلق معلومات جیسے میڈیکل رپورٹس یا ذاتی مسائل بھی چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ کوئی ڈاکٹر نہیں ہے اور آپ کی صحت کی تفصیلات غلط ہاتھوں میں جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اپنی موجودہ لوکیشن یا سفر کے منصوبوں جیسی معلومات بھی شیئر کرنا خطرناک ہے، کیونکہ اس سے آپ کی حفاظت پر خطرہ منڈلا سکتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی ایک بہترین اور مفید ٹول ہے، لیکن اسے استعمال کرتے وقت سمجھداری اور احتیاط ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کی دی گئی معلومات انٹرنیٹ پر ریکارڈ ہو سکتی ہے۔ اس لیے اپنی حفاظت اور ڈیٹا کی پرائیویسی برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سوچ سمجھ کر ہی اس کا استعمال کریں۔











