پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گزشتہ روز ہونے والی بارشوں بھارت سےآنے والے پانی سے سیلابی صورت حال کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے شدید نقصان ہوا ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی میں بدستور اونچے درجے کا سیلاب ہے اور اس وقت سیلابی ریلے جنوبی پنجاب سے گزر رہے ہیں، جو آج پنجند کے مقام پر دریائے سندھ میں جا ملیں گے۔
دریائے چناب میں ہیڈ محمد والا اور شہر شاہ پل کے درمیان پانچ لاکھ کیوسک 394 فٹ تک پانی کی سطح برقرار ہے، جس کی وجہ سے اکبر بند پر اور اطراف کی دیگر آبادیوں میں ہائی الرٹ برقرار ہے۔ پیچھے دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر بھی پانی پانچ لاکھ کیوسک تک ہے۔
این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 884 ہو گئی ہے، جن میں 239 بچے اور 135 خواتین شامل ہیں جبکہ لگ بھگ 1200 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق چھ سے نو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔
سندھ میں ممکنہ سیلاب کی 24 گھنٹے نگرانی کے لیے قائم رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل پر مقرر انفارمیشن آفیسر آنند کمار نے انڈیپینڈنٹ کو بتایا کہ پنجاب کے مختلف دریاؤں کا پنجند کے مقام پر جمع ہونے والا پانی سندھ کے گڈو بیراج پر پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔
سندھ کے سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دریاؤں اور بیراجوں میں سیلابی پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ممکنہ سیلاب کے لیے ہنگامی طور اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔











