اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے اور اسے آنے والے وقت میں مزید خود انحصار بننا پڑے گا۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ یورپ میں لامحدود ہجرت کے نتیجے میں مسلمان ایک اہم اقلیت بن گئے۔ جن کی آواز پراثڑ اور انداز جارحانہ ہوچکا ۔
انہوں نے کہا کہ غز پر حملوں کے بعد سے اسرائیل کو دو نئے خطرات کا سامنا ہے، جن میں مسلم اکثریتی ممالک سے ہجرت کے نتیجے میں یورپ میں آبادیاتی تبدیلیاں اور نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسرائیل کے مخالفین کا اثر و رسوخ میں اضافہ شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ملک کے حریف ممالک میں بین الاقوامی این جی او اور چین جیسی رہاستیں سرمایہ کاری کررہی ہیں ۔











