بھارت کےمعروف گلوکار شان کہتےہیں کہ اگر کسی نے اے آئی کے ذریعے میری آواز کی نقل کی تو وہ اس پر مقدمہ کردیں گے۔
بالی ووڈ میں رواں برس فلم سیارہ کی بڑی دھوم ہے فلم کو نوجوان نسل کی سوچ کیا جارہا ہے لیکن اس فلم میں ایک گانےکواے آئی کی مدد سے آنجہانی گلوکار کشور کمار کی آواز دی گئی۔
بھارت کی میوزک انڈسٹری فلموں میں اے آئی کے استعمال کےحوالے سے تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے ہی ایک گلوکار شان بھی ہیں۔
شان پچھلے 25 سال سے سُروں کے تار چھیڑ رہے ہیں۔ ‘تنہا دل’، ‘چاند سفارش’، ‘مسو مسو ہنسی’، ‘ہے شونا’، ‘بہتی ہوا سا تھا وہ’، جیسے گانے دینے والے گلوکار کا موقف انتہائی سخت ہے۔
نوو بھارت نامی نیوزویب سائیٹ کودیئے گئے انٹرویو میں شان نے سیارہ فلم میں اے آئی کے ذریعے کشور کمار کی آواز میں گانے پر شدید تنقید کی ۔
شان کا کہنا تھا کہ موسیقی سے ان کا رشتہ چار نسلوں سے جڑا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تعلق ہمیشہ بنا رہے۔ فلم سازوں نے بہت ہی چالاکی سے کشور کمار کے گانے کو بلیک اینڈ وائٹ میں عکس بند کیا ، انہیں تو ویوز بھی مل گئے۔ کئی بچوں کو یہ بھی لگ رہا ہے کہ یہ تو کشور کمار کا گایا ہوا پرانا گانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلموں میں آواز کو بدلنا خطرے سے زیادہ قانونی مسئلہ لگتا ہے۔اگر مستقبل میں مجھے اپنی جیسی آواز میں کوئی ایسا گانا ملے، جو میں نے گایا نہیں ہے، تو میں ان پر کیس کر سکتا ہوں۔ چونکہ ایک گانے سے میوزک کمپنیاں بھی جڑی رہتی ہیں، تو اے آئی کے ذریعے آپ گانے تخلیق کر رہے ہیں، تو مسئلے میں پڑ سکتے ہیں۔











