اہم ترین

انسان خود اپنی عادتوں سے مچھروں کو پاس آنے کی دعوت دیتے ہیں: یورپی تحقیق

نیدر لینڈز کے طبی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانوں کی کچھ عادتیں مچھروں کو ان کی جانب متوجہ کرتی ہیں۔

نیدرلینڈز میں محققین نےمیوزک فیسٹیول کو ایک غیر متوقع لیبارٹری میں تبدیل کر دیا تاکہ ایک ایسے سوال کی تحقیق کی جا سکے جو طویل عرصے سے سائنسدانوں اور مچھروں کے کاٹنے والے افراد کو پریشان کر رہا ہے کہ کچھ لوگوں کی جانب مچھر دوسروں کی نسبت زیادہ کیوں کاٹتے ہیں۔

بڈنگ ہوئزن میں منعقدہ لوولینڈز میلے کے دوران مسلسل 3 دنوں تک سائنسدانوں نے شپنگ کنٹینر میں بنی لیبارٹریوں کو ایک منفرد عارضی تحقیقاتی مقام بنادیا۔

اپنے پسندیدہ میوزک بینڈ کا انتظار کرنے کے بجائے فیسٹیول کے سیکڑوں شرکاء “مچھر میگنیٹ ٹرائل” کے لیے رضاکارانہ طور پر قطار میں لگ گئے۔

عارضی لیب میں ہر روز صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک شرکاء کے گروہوں نے مچھروں سے بھرے ایکری لیک کے شفاف ڈبوں میں اپنے بازو ڈالے۔ ایک کیمرہ اور کمپیوٹر سسٹم مچھروں کی حرکت کو ریکارڈ کرتا اور ہر شخص کے لیے ایک منفرد کشش کا اسکور لکھتا ۔

اس مطالعے میں 500 سے زائد رضاکار شامل تھے، جس کے نتائج میں مختلف قسم کے نتائج سامنے آئے، کچھ لوگوں کے بازوؤں سے مچھر دور دور رہتے جبکہ دیگر فوراً بازوؤں پر مقناطیس کی طرح چمٹ گئے۔

تحقیقی ٹیم کے ابتدائی نتائج بائیو ریوکس نامی طبی جریدے میں شائع ہوئے، جو لوگوں کی مخصوص عادتوں اور مچھر کی کشش کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن لوگوں نے کچھ ہی دیر پہلے شراب نوشی کی تھی، وہ مچھروں کے لیے بغیر شراب پیئے لوگوں کی نسبت 44 فیصد زیادہ پرکشش تھے۔ اسی طرح چرس کا استعمال کرنے والے بھی مچھروں کے لئے بہت مرغوب تھے۔

تحقیق میں شامل ہونے سے ایک رات پہلے مباشرت کرنے والے رضاکار بھی خون چوسنے والے ان حشرات کے لیے زیادہ کشش کا باعث بنے۔

تاہم جن لوگوں نے سن اسکرین لگارکھی تھی، وہ مچھروں کے لیے تقریباً نصف پرکشش تھے بہ نسبت ان کے جو نہیں لگائی تھی۔

پاکستان