امریکا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹھن گئی۔ حکومتی اخراجات کے لئے عارضی فنڈنگ بل منظور نہ ہوسکا ۔ جس کی وجہ سے ٹرمپ کے گزشتہ دور کی طرح اس بار بھی سرکاری ادارے عارضی طور پر بند ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں عارضی فنڈنگ بل پاس کرانے کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے مگر انہیں صرف 55 ووٹ ہی حاصل ہو سکے۔ اس ناکامی کے بعد امریکی حکومت کے پاس ضروری اخراجات کے لیے کوئی نیا قانونی اختیار باقی نہیں رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ملازمین اور درجنوں سرکاری محکمے متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی نظام حکومت کے مطابق جب تک بجٹ یا عارضی فنڈنگ بل منظور نہیں ہوتا، غیر ضروری تصور کیے جانے والے محکمے اور ادارے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو ’شٹ ڈاؤن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں پانچواں موقع ہے کہ امریکہ اس بحران کی زد میں آیا ہے۔
ریپبلکن پارٹی نے حکومت کو 21 نومبر تک کھلا رکھنے کے لیے ایک قلیل مدتی بل پیش کیا تھا لیکن ڈیموکریٹس نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔
ڈیموکریٹس کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کے مجوزہ میگا بجٹ سے میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتی واپس لی جائے اور افورڈ ایبل کیئر ایکٹ کے اہم ٹیکس کریڈٹ کو بڑھایا جائے۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی نے ان شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف ملازمین بلکہ امریکی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2018 کے شٹ ڈاؤن نے 34 دنوں تک سرکاری کام کاج مفلوج کر دیا تھا اور لاکھوں افراد کو بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنا پڑا تھا۔
اس بار خدشہ ہے کہ حالات اور بھی سنگین ہوں گے، کیونکہ صدر ٹرمپ کئی محکموں کو مستقل طور پر بند کرنے اور ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔











