اہم ترین

امریکی شٹ ڈاؤن : ناسا بھی لپیٹ میں آگیا، کئی اہم شعبے بند

امریکا میں اس وقت شٹ ڈاؤں کی صورت حال ہے یعنی ہنگامی شعبوں کے علاوہ تمام شعبوں میں کام بند ہے۔ اس کا اثر خلائی تحقیق سے متعلق امریکی ادارے ناسا پر بھی پڑا ہے۔

ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ اور پبلک کمیونیکیشن کو فی الحال بند کر دیا ہے۔ مطلب جب تک امریکی حکومت نیا بجٹ منظور نہیں کرادیتی یا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مالیاتی معاملات میں اتفاق نہ ہونے تک اب ناسا کی ویب سائٹ پر کوئی نئی اپ ڈیٹ، پریس ریلیز یا پبلک نوٹیفکیشن نہیں نظر آئے گا۔

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ناسا کے کئی سیکشن کام نہیں کررہے۔ اس میں پبلک آؤٹریچ، ایجوکیشن پروگرامز، ریسرچ گرانٹس اور مشن پلاننگ جیسے شعبے فی الحال معطل ہیں۔ اس لئے ناسا کی کئی سائٹس پر اب تحریر نظر آتی ہے کہ فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ویب سائیٹ دستیاب نہیں۔

دوسری جانب ناسا نے اپنے اہم آپریشنز جاری رکھے ہیں۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، اسپیس کرافٹ ٹریکنگ اور پلانٹری ڈیفنس سسٹم پوری طرح فعال ہیں۔

ناسا کی بندش نئی نہیں ہے کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ سال 2013 میں امریکی حکومت کے بند ہونے کے باعث، ناسا کے تقریباً 97 فیصد ملازمین کی چھٹی کی وجہ سے تحقیق رک گئی اور مشن ملتوی ہو گئے۔ وہیں، 2018-19 میں بھی اسی طرح کا فنڈنگ بحران آیا تھا، جب کئی مہینوں تک ویب سائٹ اپ ڈیٹس اور سوشل میڈیا سرگرمیاں بند رہیں تھیں۔ اس بار بھی حالات کچھ ویسے ہی ہیں، جن میں نئے پوسٹ، بلاگ یا پریس اپ ڈیٹس فی الحال رک گئے ہیں۔

جیسے ہی امریکی پارلیمنٹ نیا بجٹ پاس کرے گی، NASA کی ویب سائٹس اور باقی عوامی خدمات دوبارہ فعال ہونے کی امید ہے۔ تب تک کے لیے NASA کا زیادہ تر آن لائن سسٹم “on hold” موڈ میں ہے۔

پاکستان