حماس غزہ میں لڑائی بند کرانے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ معاہدے پر جاری مذاکرات کے بارے میں پر امید ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے 20 نکاتی امن معاہدہ تجویز کیا تھا۔ جس پر حماس اور اسرائیل کے درمیان مصر میں بالواسطہ مذاکرات ہورہے ہیں۔
مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوچکا ہے۔ ٹرمپ نے اب تک کی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ تاہم منصوبے کے پہلے مرحلے کے نفاذ کے وقت پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا۔
حماس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے پر جاری مذاکرات سے پُرامید ہیں۔ ہم نے معاہدے کے تحت رہا کئے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے ناموں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے ۔
فلسطینیوں کو امید ہے کہ گزشتہ دو سال سے جاری اسرائیلی حملے روکنے کے لئے حالیہ جنگ بندی مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اللہ سے امید کرتے ہیں کہ جنگ بندی جلد از جلد ہو، کیونکہ لوگ مزید تکلیف برداشت نہیں کر سکتے، لوگ اس تکلیف دہ ماحول میں مزید سانس نہیں لے سکتے۔ ہم اللہ سے امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔
دوسری جانب اسرائیل امن مذاکرات جاری ہونے کے باوجود غزہ میں اپنی کارروائیاں بند نہیں کررہا۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 8 فلسطینی شہید جبکہ 61 زخمی ہوئے ہیں۔











