اہم ترین

افغان قیادت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے منہ موڑ کر امت سے ناانصافی کی: صدر مملکت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ افغان قیادت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی سے منہ موڑ کر تاریخ اور امت دونوں کے ساتھ ناانصافی کی۔

ایوانِ صدر سے جاری ایک اہم بیان میں صدرِ مملکت نے جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ “کشمیر کے معاملے پر کسی بھی متنازعہ یا گمراہ کن مؤقف کو پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ بھارت کی جانب سے کشمیر سے متعلق ہر غیر قانونی دعویٰ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔”

صدر زرداری نے افسوس کا اظہار کیا کہ عبوری افغان قیادت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد آزادی سے منہ موڑ کر نہ صرف تاریخ بلکہ امتِ مسلمہ کے ساتھ بھی ناانصافی کی ہے۔

صدر مملکت نے خطے میں دہشت گردی کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری افغان حکومت کی سرزمین سے فتنۂ خوارج کے حملے اقوامِ متحدہ کی رپورٹس سے بھی ثابت شدہ حقیقت ہیں۔ پاکستان بارہا واضح کر چکا ہے کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کی گٹھ جوڑ سے پاکستان کے شہری اور سیکیورٹی اہلکار نشانہ بن رہے ہیں۔

صدرِ پاکستان نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے خلاف فی الفور اور عملی اقدامات کرے، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان، دونوں خطے کے امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

پاکستان