وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت قابلِ فخر ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک اور بہادر قیادت میں ہماری افواج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف منہ توڑ جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔”
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ “ہر قسم کی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ بیرونی جارحیت کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور آئندہ بھی دے گی۔”
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور دشمن کی کسی بھی کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے یکجان ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی بار افغانستان کو وہاں موجود فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں ٹھوس معلومات فراہم کی ہیں، جو مسلسل پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود مخصوص عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
وزیراعظم نے افغان نگران حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ عبوری افغان حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی خودداری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان کی افواج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔











