اہم ترین

افغانستان سے جھڑپیں: 23 اہلکار شہید، 200 سے زائد طالبان دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر

پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان آرمی کے 23 اہلکار شہید جبکہ 29 زخمی ہوئے۔

ٓئی ایس پی آر کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ افغانستان میں قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اور نقصان کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور ان کے اتحادی دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ ان کے علاقے سے سرگرم دہشت گرد گروہوں، بشمول فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش، کو غیر مؤثر بنایا جا سکے۔ بصورتِ دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد اہداف کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افواجِ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کے حملے کو بھرپور انداز میں پسپا کیا۔ سرحد کے مختلف مقامات پر دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔ جوابی کارروائی میں افغان سرزمین پر موجود طالبان کیمپوں، دہشت گرد تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش سے منسلک عناصر شامل تھے۔ ان مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے، جبکہ افغان سرحد کے اس پار دشمن کے 21 ٹھکانوں پر عارضی قبضہ بھی حاصل کیا گیا۔ دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے کئی تربیتی کیمپ بھی ناکارہ بنا دیے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام امن، سفارت کاری اور تعمیری مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ قابلِ تشویش امر ہے کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے انڈیا کے دورے کے دوران ہوئی جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ گزشتہ رات کا واقعہ پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔

پاکستان