اہم ترین

روس کا لامحدود رینج والا جوہری میزائل تجربہ، پوتن کا بڑا اعلان

یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے دوران روس نے ایک ایسا جوہری میزائل تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو لامحدود فاصلے تک پرواز کرنے اور کئی ماہ تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مطابق یہ تجربہ کامیابی سے انجام پایا اور دنیا کے کسی بھی فضائی دفاعی نظام نے اسے ٹریس نہیں کیا۔

صدر پوتن نے بتایا کہ “بورےویستنک” نامی یہ کروز میزائل جوہری انجن سے چلتا ہے، جو اسے روایتی ایندھن والے میزائلوں سے کہیں زیادہ طویل فاصلہ طے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ میزائل 14 ہزار کلومیٹر تک پرواز کرتا رہا اور 15 گھنٹے تک فضا میں موجود رہا۔

پوتن نے کہا کہ اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دنیا کے تمام موجودہ اور مستقبل کے فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ناقابلِ تسخیر ہے۔ ان کے بقول، “دنیا میں کوئی بھی ملک اس نوعیت کی ٹیکنالوجی نہیں رکھتا۔ بورےویستنک ایک ایسا ہتھیار ہے جو جوہری انجن سے چلتا ہے اور اس کی رینج لامحدود ہے۔”

گزشتہ روز صدر پوتن نے یوکرین میں روسی افواج کے محاذی علاقے کا دورہ کیا اور وہاں تعینات کمانڈروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے بورےویستنک کے کامیاب تجربے کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔

پوتن کے مطابق چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف نے 21 اکتوبر کو انہیں رپورٹ دی کہ میزائل نے کامیابی کے ساتھ 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور تمام عالمی ریڈار اور ڈیفنس سسٹمز کو چکمہ دیا۔ “دنیا کا کوئی بھی دفاعی نظام اس کا پتہ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا،” پوتن نے کہا۔

اگرچہ روسی صدر نے اس تجربے کو “انسانی ٹیکنالوجی کا نیا باب” قرار دیا ہے، لیکن اب تک روس نے اس میزائل کی کوئی ویڈیو، تصویری یا تکنیکی شہادت پیش نہیں کی۔ مغربی دفاعی ماہرین کے مطابق، روس کے اس دعوے کی تصدیق آزاد ذرائع سے ممکن نہیں ہو سکی۔

امریکی اور یورپی عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ عالمی اسلحہ توازن کے لیے سنگین پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ لامحدود رینج والا جوہری میزائل عالمی سکیورٹی کے لیے غیر معمولی خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب روس نے “ناقابلِ تسخیر” ہتھیار کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی روس “کینژل” ہائپرسانک میزائل اور “سارماٹ” بین البراعظمی میزائل متعارف کروا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بورےویستنک اگر واقعی لامحدود پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ ہتھیار سرد جنگ کے بعد کے دور میں سب سے خطرناک جوہری نظام ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان