پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور قومی مفاہمت کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ملاقات کے دوران سیاسی استحکام، معیشت کی بحالی اور پارلیمانی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں اختلافات سے بالاتر ہو کر مل بیٹھنا چاہیے، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) October 27, 2025
بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال
بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نیر حسین بخاری، ہمایوں خان اور جمیل سومرو موجود… pic.twitter.com/sgPY59i4w4
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے تمام فریقوں کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مستقبل میں رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا، بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی، جو انہوں نے قبول کر لی۔
ڈان نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات خیر سگالی تھی، یہ ایجنڈا میٹنگ نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات میں کسی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مؤقف اپنایا کہ مجھے اپوزیشن لیڈر بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ ایسی بات ہوئی، ہمیں معلوم ہے ہمارے پاس کتنے ارکان ہیں، ہم ان ہی ارکان کے ساتھ اپوزیشن میں رہیں گے۔
سیاسی مبصرین اس ملاقات کو مستقبل میں ممکنہ سیاسی اتحاد یا پارلیمانی تعاون کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔











