اہم ترین

پاکستان میں مجھ سے بڑا کوئی فیمنسٹ نہیں: خلیل الرحمان قمر

معروف ڈراما نگار خلیل الرحمان قمر کہتے ہیں کہ تنقید کرنے اور بھونکنے میں فرق ہوتا ہے ان کے نئے ڈرامے ’میں منٹو نہیں ہو‘ پر تنقیدنہیں ہو رہی۔ مجھ سے بڑا پاکستان میں کوئی فیمنسٹ نہیں

نیکسٹ جین نامی یوٹیوب پوڈ کاسٹ پر خلیل الرحمان قمر نے اپنے نئے ڈرامے ’میں منٹو نہیں ہو‘ پر ہونے والی تنقید کاکھل کر جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی شادیاں بھی دیکھی ہیں جن میں طالبہ نے شادی شدہ استاد سے شادی کی ہے۔ میں نے تو اپنے ڈرامے میں غیر شادی شدہ استادکو دکھایا ہے۔استاد اور شاگرد شادی کر سکتے ہیں، وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، اس کے لئےعمر کا کوئی تعلق نہیں۔

خلیل الرحمان قمر کا کہناتھا کہ تنقید اچھی ہوتی ہے، اس سے اصلاح ہوتی ہے۔تنقید کرنے اور ’بھونکنے‘ میں فرق ہوتا ہے۔ بھونکنے والوں کو سوشل میڈیا نےکھلی اجازت دے رکھی ہے۔ آج کل تک 70 سال کی خواتین اور مرد بھی شادیاں کر رہے ہیں تو ان کے کرداروں پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے۔

مصنف کا کہنا تھا کہ محبت ایسی ولایت ہے جو خوش نصیبوں پر اترتی ہے۔ ہرتعلق کو محبت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ایسی لڑکیوں کے خلاف کوئی جلوس نہیں نکالتا جو مردوں سے عشق لڑاتی اور تعلقات قائم کرتی ہیں بلکہ مردوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔

خلیل الرحمان قمر کا کہنا تھا کہ محبت میں بے وفائی نہیں ہوتی۔ بے وفائی اسی وقت ہوتی ہے جب رشتے میں آغاز سے ہی محبت نہیں ہوتی۔ 35، 36 عورتوں کو مجھ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ انہیں میری سمجھ ہی نہیں۔ وہ فیمینزم کی بات کرتی ہیں حالانکہ مجھ سے بڑا پاکستان میں کوئی فیمنسٹ نہیں۔

پاکستان