اہم ترین

ڈکی بھائی سے ریلیف کے بدلے رشوت لینے پر این سی سی آئی اے کے 4 افسران سمیت 6 اہلکار گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے 90 لاکھ روپے رشوت وصول کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر سنگین الزامات کے تحت نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی (این سی سی آئی اے) کے 6 افسران اور تین دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مقدمے میں شامل ملزمان میں این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز شعیب ریاض اور مجتبیٰ ظفر کے علاوہ ہیڈکوارٹر میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن محمد عثمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، دو سب انسپکٹرز علی رضا اور یاسر رمضان اور ایک شہری عثمان عزیز بھی مقدمے میں نامزد ہیں، جنہیں شعیب ریاض کا مبینہ فرنٹ مین قرار دیا گیا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی اہلیہ نے پولیس سے رجوع کیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اور عدالت نے گذشتہ جمعہ کو پولیس کو محمد عثمان کو تلاش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی اضافی مہلت دی تھی۔

ایف آئی اے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کے خلاف یہ مقدمہ سعد الرحمان کی اہلیہ عروب جتوئی کی درخواست پر ہونے والی تحقیقات کے بعد درج کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ این سی سی آئی اے لاہور کے اسسٹننٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض نے مدعیہ کو مقدمے میں ریلیف دینے اور ملزم سعد الرحمان کا مزید جسمانی ریمانڈ نہ لینے اور انھیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوانے کے لیے ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے 90 لاکھ روپے کی رقم بطور رشوت وصول کی۔

پاکستان