اہم ترین

غزہ میں 16 ہزار سے زائد شدید زخمی بیرون ملک علاج کے منتظر

غزہ میں عالمی ادارۂ صحت اب تک سیکڑوں مریضوں کے انخلا میں مدد فراہم کر چکا ہے لیکن مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی بحران کے دوران 16 ہزار 500 سے زائد شدید زخمی اب بھی علاج کے لیے منتقلی کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر تک مصر نے سب سے زیادہ 3995 فلسطینی مریضوں کو علاج کے لیے قبول کیا، اس کے بعد متحدہ عرب امارات 1450، قطر 970 اور ترکیہ نے 437 شدید زخمی فلسطینیوں کو علاج کے لئے اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دی ۔

یورپی ممالک میں اٹلی نے سب سے زیادہ مریضوں کو علاج کی سہولت دی، جہاں 201 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب بھی 3800 فلسطینی بچے فوری علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل انتہائی محدود ہے۔

گزشتہ ہفتے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف 149 ٹرک ایک روز میں غزہ میں داخل ہو سکے، جس کی بڑی وجہ راستوں میں بھیڑ اور اسرائیلی فوج کی تاخیر بتائی گئی۔

غزہ میڈیا آفس کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک روزانہ اوسطاً 145 امدادی ٹرک غزہ پہنچ رہے ہیں، جو طے شدہ 600 ٹرکوں کے ہدف سے بہت کم ہیں۔

اقوام متحدہ نے بتایا کہ سامان کی نقل و حرکت فلڈلفی کوریڈور کے ذریعے ہو رہی ہے جو انتہائی تنگ اور بھاری گاڑیوں کے لیے غیر موزوں ہے۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل متبادل راستوں — خصوصاً کرم ابو سالم (کرِم شالوم) کراسنگ کے استعمال کی اجازت نہیں دے رہا، جس سے امدادی کام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان