اہم ترین

شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ: جنوبی کوریا کے ایٹمی آبدوز منصوبے پر تناؤ

جنوبی کوریا کے ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز بنانے کے منصوبے کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے مشرقی سمندر (بحیرہ جاپان) کی سمت ایک بیلسٹک میزائل داغ دیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق یہ میزائل 700 کلومیٹر (435 میل) فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گرا۔

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے تصدیق کی کہ میزائل جاپان کی اقتصادی حدود سے باہر گرا، اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوبی کوریا کے ایٹمی آبدوز پروگرام نے پیونگ یانگ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ منصوبہ شمالی کوریا کی سمندری دفاعی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

شمالی کوریائی افسر اور محقق آن چان اِل نے کہا ہےکہ اگر جنوبی کوریا کو ایٹمی آبدوز مل جاتی ہے، تو وہ شمالی کوریا کے پانیوں میں داخل ہو کر پیشگی نگرانی یا میزائل روکنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی کوریا اپنی پہلی نیوکلئیر پاورڈ آبدوز امریکہ میں تیار کرے گا ایسی ٹیکنالوجی جو دنیا کے چند ہی ممالک کے پاس ہے۔

ایٹمی آبدوزیں عام ڈیزل آبدوزوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور انہیں بیٹری چارج کرنے کے لیے بار بار سطح پر نہیں آنا پڑتا۔

فی الحال دنیا میں صرف امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس، بھارت اور آسٹریلیا ایسے ممالک ہیں جن کے پاس ایٹمی آبدوزیں ہیں۔

دوسری جانب، شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن 2019 میں ٹرمپ کے ساتھ ناکام مذاکرات کے بعد سے خود کو ایک ایٹمی ریاست قرار دے چکے ہیں۔

یوکرین جنگ کے بعدشمالی کوریا کو روس کی کھلی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے، جب اس نے مبینہ طور پر ہزاروں فوجی روسی فورسز کے ساتھ بھیجے۔

حال ہی میں شمالی کوریا کی وزیرِ خارجہ چوے سون ہوئی ماسکو گئیں، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔

ستمبر میں کِم جونگ اُن بیجنگ میں ایک شاندار فوجی پریڈ کے دوران شی جن پنگ اور پیوٹن کے ساتھ دکھائی دیے، جو ان کی عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی حیثیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ اور کِم جونگ اُن کے درمیان مجوزہ ملاقات گزشتہ ہفتے منسوخ ہو گئی، مگر کِم اب بھی امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جب حالات موزوں ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سیول واقعی ایٹمی آبدوز تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا، تو یہ نہ صرف جنوبی کوریا کی دفاعی صنعت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی بلکہ شمالی کوریا کے لیے ایک نیا اسٹریٹیجک چیلنج بھی بن جائے گی۔ ⚓

پاکستان