اہم ترین

ٹرمپ کا نیا دھماکا! قزاقستان معاہدہ ابراہیمی میں شامل، سعودی عرب بھی آن بورڈ ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قزاقستان ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے جا رہا ہے، یعنی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ممالک کے طاقت کے کلب میں ایک نیا رکن داخل ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور قزاق صدر قاسم جومارت توقایف سے فون پر گفتگو کے بعد کیا۔انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ہم جلد دستخط کی تقریب کا اعلان کریں گے اور بہت سے مزید ممالک اس اتحاد کا حصہ بننے کی دوڑ میں ہیں!

قزاقستانی حکومت نے بھی تصدیق کی کہ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم قزاقستان کی غیرجانب دار، مکالمہ پر مبنی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔

اگرچہ قزاقستان پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات رکھتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ابراہیمی معاہدے میں شمولیت علامتی نہیں بلکہ سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تعلقات کا تسلسل نہیں، بلکہ ایک نیااور جامع اتحاد ہے جو خطے میں اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو نئی جہت دے گا۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ سعودی عرب بھی جلد اس تاریخی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے میامی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بہت جلد سعودی عرب بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے اور امکان ہے کہ یہی ملاقات اگلا بڑا اعلان ثابت ہو۔

اگر سعودی عرب شامل ہوتا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ اسلامی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔تاہم، ریاض نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی پیش رفت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔

اسی روز وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے قزاق صدر توقایف اور وسطی ایشیا کے دیگر چار ملکوں کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریک اس خطے میں روس اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے ملاقات کے بعد کہا کہ یہاں موجود کچھ ممالک بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں مزید اعلانات متوقع ہیں۔

پاکستان