اہم ترین

شیخ حسینہ کی وطن واپسی 3 شرائط پر مشروط

بنگلا دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی تین شرائط پر منحصر ہے، جن میں شراکتی جمہوریت کی بحالی، عوامی لیگ پر سے پابندی کا خاتمہ اور آزادانہ و غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔

ہندوستان میں ایک نامعلوم مقام سے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک خصوصی ای میل انٹرویو میں شیخ حسینہ نے موجودہ غیر منتخب یونس حکومت پر بھارت کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانے اور شدت پسند عناصر کو مضبوط کرنے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے اپنی سابق حکومت کی خارجہ پالیسی کا موازنہ موجودہ عبوری حکومت سے کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش اور ہندوستان کے درمیان جو گہرے تعلقات ہم نے برسوں میں قائم کیے، انہیں یونس حکومت کی بے وقوفانہ پالیسیوں نے خراب کر دیا ہے۔”

شیخ حسینہ نے مزید کہا کہ وہ بھارتی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کے لیے دل سے شکر گزار ہیں، کیونکہ انھیں مشکل حالات میں پناہ دی گئی۔

قابلِ ذکر ہے کہ شیخ حسینہ بنگلادیش کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک وزیر اعظم رہیں، 5 اگست 2024 کو کئی ہفتوں تک جاری حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔

جب ان سے سوال کیا کہ کیا ان کی حکومت احتجاجی تحریک کو مناسب انداز میں سنبھال نہیں سکی، تو حسینہ نے اعتراف کیا کہ ظاہر ہے، حالات پر ہمارا کنٹرول نہیں رہا تھا۔ ان خوفناک واقعات سے کئی سبق سیکھے جا سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں کچھ ذمہ داری نام نہاد طلبا لیڈران کی بھی ہے جنھوں نے ہجوم کو مشتعل کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کے حالیہ بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کے بغیر بنگلا دیش واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، تاہم ان کا یہ انٹرویو علاقائی سیاست اور بھارت بنگلا دیش تعلقات پر ایک اہم اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان