اہم ترین

امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن 43 روز بعد ختم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے متعلق بل پر دستخط کردیے، جس کے بعد حکومتی پروگرام بحال ہوگئے ہیں اور لاکھوں سرکاری ملازمین کو ایک بار پھر تنخواہیں ملنا شروع ہوجائیں گی۔ یہ اقدام تاریخ کے طویل ترین 43 روزہ شٹ ڈاؤن کے اختتام کا باعث بنا۔

نیا عارضی مالیاتی بل 30 جنوری تک حکومت کو فنڈ فراہم کرے گا، جب کہ غذائی امداد (اسنیپ) اور سابق فوجیوں کے پروگرامز کے لیے پورے سال کی فنڈنگ دی جائے گی۔ گھر بھیجے گئے ملازمین جمعرات سے اپنی ڈیوٹیز پر واپس آجائیں گے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے دو ماہ بعد اجلاس منعقد کیا اور سینیٹ کی جانب سے دو دن قبل منظور شدہ بل کی توثیق کی۔ ایوان نے 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے بل کی منظوری دی، جس میں 6 ڈیموکریٹس نے بل کے حق میں اور دو ریپبلکنز نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

بل کی منظوری کے تقریباً دو گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کے ہمراہ دستخط کیے۔ اس موقع پر مالیاتی صنعت کے رہنما بھی موجود تھے جن کے ساتھ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں عشائیہ کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ڈیموکریٹس کو طویل شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈیموکریٹس نے ہمارے ملک کے ساتھ کیا کیا۔ جب وسط مدتی انتخابات آئیں تو اسے مت بھولیں۔

انہوں نے ہیلتھ انشورنس سبسڈی کے معاملے پر ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اوباماکیئر ایک ناکام پالیسی ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔ وہ صحت کے ایک نئے نظام پر کام کرنا چاہتے ہیں، جس میں انشورنس کمپنیوں کے بجائے براہِ راست عوام کو فنڈز دیے جائیں تاکہ وہ اپنی مرضی کی پالیسی خرید سکیں۔

صدر نے دعویٰ کیا کہ اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے اور پٹرول کی قیمتیں کم ہوکر تقریباً ڈھائی ڈالر فی گیلن رہ گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ایوانِ نمائندگان نے 19 ستمبر کو عارضی بجٹ بل کا پہلا ورژن منظور کیا تھا، لیکن سینیٹ میں مطلوبہ 60 ووٹ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ رکا رہا۔ ریپبلکنز کی سینیٹ میں 53 نشستیں ہیں۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر فلِبسٹر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ طریقہ کار ختم کر دیا جائے تو ایسی رکاوٹیں دوبارہ پیدا نہیں ہوں گی تاہم ان کی اپنی جماعت کے کئی رہنما اس اقدام کے مخالف ہیں۔

نئے قانون کے تحت حکومتی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد جمعرات سے تمام سرکاری ادارے معمول کے مطابق کام شروع کردیں گے۔

پاکستان