قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی اور آرمی ، نیوی اور ایئرفورس کے ترمیمی بلز 2025 کثرت رائے سے منظور کرلیے، آرمی ایکٹ کی منظوری کے بعد آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی او) ہوں گے، عہدے کی مدت پانچ برس ہوگی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت نے 4 بل پیش کیے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025، پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2025 پیش کیا جنہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا، یہ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منظوری کے لیے پیش کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے قانون سازی کی منظوری دی ہے، 27 ویں آئینی ترمیم پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، آئینی عدالت قائم ہو گئی ہے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ فوجی ایکٹ میں تبدیلی کا مقصد چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت ملازمت تقرری کی تاریخ سے پانچ سال ہوگی۔
تبدیلیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کی جگہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (CNSC) کا عہدہ قائم کیا جائے گا۔
ترمیم کے مطابق، وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر فوج کے جنرلز میں سے کسی ایک کو کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرے گا، جس کی مدتِ تقرری تین سال ہوگی۔











